تیری معراج کہ تو لوح و قلم تک پہنچا

ﷲ کریم نے جو وحی چاہی اپنے بندے پر نازل فرمائی ۔(النجم :۱۰) حضرت جبرائیل وحی الہٰی کو بارگاہ الہٰی سے حضور ﷺ تک پہچانے کے امین تھے۔ جو بارگاہ الہٰی سے ارشادہوتا وہ حضور ﷺ کے قلب اطہر پر وارد کردیتے۔ سو اس وحی کو مذاق نہ سمجھو ۔جو کچھ میرے نبی ﷺفرماتے ہیں ۔نہ وہ اپنی طرف سے کچھ کہتے ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی دھوکہ لگتا ہے۔ وہ اس وقت تک قوت گویائی کو حرکت میں ہی نہیں لاتے جب تک وحی الہٰی نہ ہو جائے ۔تو سارا دین وحی الہٰی ہے۔ اس میں کوئی بھول چوک، کوئی شبہ، کوئی غلطی ، کوئی غلط فہمی نہیں ہے ۔

پھر فرمایا جوکچھ آ پ نے ملاحظہ فرما یا (۱۱) الْفُؤَادُ،دل میں جو لطیفہ ربانی ہے وہ مراد ہے۔ دل کو تو قلب کہہ لیتے ہیں نا ،قلب میں ایک لطیفہ ربانی ہے جسے انگریزی میں settle heart کہتے ہیں۔ اصل شے وہ قوت ہے۔ جودل کے اندر ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو باقی تویہ پمپنگ مشین ہے۔ خون پمپ کرتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی کام کی نہیں۔توآپ ﷺکے اس الْفُؤَادُ نے، اس لطیفہ ربانی نے ،اس قلب کے اندر کی چیز نے ، اس قلب کی حیات اور قلب کے ادراک نے۔ اس بات میں کوئی انکارنہیں کیا ۔جو وحی آئی ۔آپ ﷺ نے اسے من و عن قبول فرمایا اور جو دیکھا۔ اس میں بھی حضور ﷺ کو کوئی غلطی نہیں لگی۔

اس آیت کا اطلاق وحی پر بھی ہورہا ہے اوراس کا اطلاق شب معراج کے سفر پر بھی ہورہا ہے کہ اگر حضور اکرمﷺ کو جبرائیل امین لینے آئے۔ آپ سے ملاقات ہوئی۔ آپ بیت المقدس میں تشریف لے گئے ۔انبیاء کو نماز پڑھائی ۔آسمانوں پر تشریف لے گئے۔ بیت المعمور پر گئے۔ سدرۃ المنتہیٰ تک گئے۔ فرشتوں کو دیکھا ۔حقائق کو دیکھا ۔کہیں قلب اطہر میں کوئی ہلکا سا شبہ بھی نہیں آیا۔ کہیں ہلکا سا دھوکہ بھی نہیں لگا کہ چیز اصل میں کچھ اور ہو اور حضور ﷺ نے کچھ اور سمجھی ہو۔ ایساکبھی نہیں ہوا۔ نہ کوئی بھول ہوئی نہ کوئی غلطی ہوئی ۔

یہ عبدہ ‘، عبدہ‘ ہم ساری عمر پڑھتے رہے۔ صدی کے قریب عمر گزار چکے ہیں ۔اس کی سمجھ نہیں آئی۔ اﷲ کا بندہ ، بندہ کرتے ہم نے عمر ضائع کر دی۔ الحمد اﷲ اب آکر پتہ چلا کہ مقام ’’ عبدیت ‘‘ ایک منصب ہے ۔ ’’ عبدیت ‘‘ انتہائی سلوک کا ایک وسیع دائرہ ہے اور پھر دائرہ عبدیت کے اندر کتنا فاصلہ ہے ؟کہ وہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔اﷲ کی راہ میں چلنے والوں کو زندگی بھر راہ سلوک میں ترقی نصیب ہوتی رہتی ہے اورہزاروں سالوں بعد اگر کسی کو دائرہ عبدیت نصیب ہو۔ اس میں پھر اتنی وسعتیں ہیں کہ برزخ میں بھی چلتا رہے۔

جنت میں ہمیشہ رہے گا ہمیشہ چلتا رہے تو وہ ختم نہیں ہوگا۔ اس کا سرتاج، اس کی انتہا، اس کا کمال، اس کی حد کیا ہے ؟ محمد الرسول اﷲ ﷺ ۔یہ معنی ہے فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہٖ، عَبْدِہٖ کا یہ مفہوم ہے ۔ہم پڑھتے ہیں نا عبدہ ‘ورسولہ ، عبدہ‘ کا یہ مفہوم ہے کہ مقام عبدیت کے انتہائی کمال پر ’’ محمد الرسول اﷲ ‘‘ ﷺ فائز ہیں ۔

مناصب انبیاء ؑکے بھی ہوتے ہیں۔ مناصب صحابہؓ میں بھی تھے ۔مناصب اولیاء اﷲ میں بھی ہوتے ہیں۔ صحابہؓ اور تابعین کا عہد متصل ہے نبی کریمﷺ سے۔ فرمایا خیر القرون قرنی سب سے بہتر زمانہ وہ ہے جس میں ، میںدار دنیا میں تشریف فرما ہوں ۔ ثم الذین یلونہم پھر وہ لوگ جو ایک عہد میرے بعد آئے گا ثم الذین یلونہم پھر تیسرا درجہ جو اس کے بعد آئیں گے۔

حضورﷺ کے بعد صحابہؓ اور تابعین ؒ کا مشترکہ عہدہے ۔جب صحابہؓ ختم ہوگئے۔ تابعین ؒکے ساتھ تبع تا بعینؒ بن گئے۔ صحابہؓ دنیا سے رخصت ہوگئے تو وہ عہد جب تک تابعین ؒمیں سے کوئی زندہ رہا وہ تابعینؒ اور تبع تابعین ؒکا ہے۔ یہ تین زمانے، فرمایا افضل ترین زمانے ہیں ۔ان سے جو حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے گزر چکے اور ان سے بھی جو قیامت تک آئیں گے۔ انبیاء ؑکا دائرہ سلوک اپنا ہے۔ غیر نبی ؑ کو سمجھ نہیں آتی۔ صحابہؓ او ر تابعینؒ کا دائرہ سلوک اپنا ہے۔ اولیاء اﷲ کا اپنا ہے۔ منازل کے نام ایک سے ہیں۔ لیکن مناصب میں فرق ہے۔

حضرت ابراھیم علیہ السلام کو فرمایا صِدِّیْقًا نَّبِیًّا(المریم:۴۱) نبی بھی تھے۔ صدیق بھی تھے ۔یعنی وہ انبیاء میں منصب صدیقیت پر فائز تھے۔ عیسیٰ روح اﷲ یہ منا صب ہیں انبیاء کے ،محمد رسول اﷲ ۔آپ اﷲ کے رسول ہیں۔ساتھ فرمایا منصب کیا ہے ؟عبدہُ ورسلہُ ۔جو قرب انتہائی مخلوق کو خالق سے نصیب ہو سکتا ہے۔ فرمایا اس کی انتہا پر محمد رسول اﷲ ﷺ فائزہیں۔ پھر اپنے بندے پر وحی نازل فرمائی سوفرمائی۔ تمہارا اس سے کیا؟ اﷲ فرماتا ہے میں تمہارے ساتھ بات نہیں کر سکتا۔ فرمایا تمہارے ساتھ میرا حبیب تم سے بات کرتا ہے۔ میں نے اپنے حبیب ﷺسے بات کر دی ہے تو شب معراج کے بارے بھی ہو تو فرمایا جن بلندیوں تک چاہا۔ حضور ﷺ کو لے گیا۔نہ حضور ﷺ کو کوئی دھوکہ لگا۔ نہ غلط فہمی ہوئی ۔ہر چیز جیسے تھی آپ نے ویسے دیکھی، ویسے سمجھی ۔انتہائی قرب جو مخلوق کو خالق سے نصیب ہو سکتا ہے ۔وہ آپ ﷺ کو نصیب ہوا۔

اﷲ کا ذاتی کلام قلب اطہر پر وارد ہوا۔(۱۱) پھر آ پ کے قلب اطہر کو اس میں کوئی غلطی محسوس نہیں ہوئی کہ کسی بات کو قبول کرنے کی استعدادنہ ہو یا قبول نہ کر سکے۔ نہیں، من وعن۔ جو ارشاد باری تھا قلب اطہر نے قبول کر لیا ۔جو کچھ آپ کی چشم اطہر نے دیکھا ،قلب اطہر نے من و عن قبول کیا۔ کبھی ہوتا ہے نا ہم کوئی چیز دیکھتے ہیں ۔دل کہتا نہیں یار مجھے غلطی لگ رہی ہے۔ یہ وہ چیز تو نہیں ہے ۔فرمایا حضور ﷺ کا یہ عالم نہ تھا کہ چشم اطہر دیکھے اور دل کہے۔ پتہ نہیں ایسا ہوتا بھی ہے یا نہیں۔

فرمایا جس طرح آنکھ دیکھ کر یقین کر رہی تھی، قلب اطہر اس سے زیادہ مطمئن تھا اور اس حقیقت سے آشنا تھا۔تم نزول وحی پہ تو اعتراض کرتے تھے۔(۱۲) فرشتے کی بات پہ تو اعتراض کرتے تھے کہ یہ صرف آپ کے خیالات ہیں، آپ نے خود گھڑ لیے ہیں۔ کہتے تھے ہمیں تو وحی کا پتہ نہیں چلتا ۔آپ کہتے ہیں۔ وحی آ گئی ،یہ حکم آ گیا۔ ہمیں تو فرشتہ دکھائی نہیں دیتا اور اب تو آپﷺ نے فرشتے بھی دیکھے، آسمان بھی دیکھے، لوح محفوظ بھی دیکھے، جنت و دوزخ کا بھی ملاحظہ فرمایا، برزخ اور برزخ کے واقعات بھی دیکھے ،جلالت باری تعالیٰ بھی دیکھی اور معراج کے بعد آ کر بیان فرمائے۔ جہاں حضور ﷺ پہنچے وہاں مخلوق میں سے دوسرا کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا۔

جتنا ممکن تھا ذات باری کے قریب ہونا، اتنا حضور ﷺقریب گئے، کوئی فاصلہ رہ نہ گیا۔ تو یہ سب کچھ حضور ﷺ کے دل اطہر نے قبول کیا۔جو کچھ حضور ﷺ نے ظاہری آنکھ سے دیکھا اس پر بھی تم اعتراض کرتے ہو؟ جس کا آپ ﷺ نے مشاہدہ فرمایا (۱۲) اس پر تمہیں اعتراض ہے۔ جھگڑا کرتے ہو۔ دیکھی ہوئی چیزوں میں بھی، چشم دید چیز ہے۔اﷲ گواہ ہے کہ حضور ﷺ نے جو دیکھا حق دیکھا ۔جو سمجھا حق سمجھا ۔تم کہتے ہو، نہیں۔ آپ ایسے ہی کہہ رہے ہیں ۔ایسا نہیں ہو سکتا ۔بھئی تم جاہل ہو۔ دیکھی ہوئی چیزوں پر اعتراض کرتے ہو۔

اُس زمانے میں کفار اعتراض کرتے تھے۔ آج ہم کس دور میں آ گئے ہیں کہ جو بندہ مسلمان ہونے کا دعوے دار ہے اسے بھی معراج پر اعتراض ہے۔ ہمارے مسلمان دانشور اور قومی راہنما قسم کے لوگ بھی کہتے ہیں جی یہ ایک خواب تھا۔ جو حضور ﷺ نے دیکھا

جسم اطہر تو وہیں تھا۔ جسمانی طور پر حضور ﷺ تشریف نہیں لے گئے۔ خواب تو ہر بندہ دیکھ سکتا ہے۔ اگر حضور ﷺ اہل مکہ کو کہتے میںنے یہ خواب دیکھا ہے تو انہیں کیا اعتراض ہو سکتاتھا؟ اعتراض تو اس بات پر تھا کہ آپ جسم اطہر سمیت کیسے بیت المقدس چلے گئے؟ ہمیں مہینے لگتے ہیں ۔بڑا اچھا تیز رفتار،صحت مند، اونٹ ہو، بھگا بھگا کرلے جائیں تو مہینوں کے حساب کاسفر ہے ۔اور آپ بیت المقدس گئے بھی اور واپس بھی آگئے اور پھر وہی رات کا لمحہ کوئی وقت نہیں لگا۔یہ تو مشرکین کو بھی علم تھا کہ حضور ﷺ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ میں جسم اطہر سمیت بیت المقدس گیا ۔ وجود اطہر سمیت آسمانوں پر گیا ۔عرش اولیٰ پر گیا۔ برزخ دیکھا، جنت کو دیکھا ،دوزخ کا ملاحظہ فرمایا۔

لوگ کہتے تھے یہ آسمانوں کی بات توہماری سمجھ سے باہر ہے۔ لیکن ہم زمینی فاصلے کوتو سمجھ سکتے ہیں پھر انہوں نے سوال کیا کہ اگر آپ بیت المقدس گئے ہیں تو ہم بھی بارہا وہاںگئے ہیں۔ ہم نے وہ مسجد دیکھی ہے۔ اس کی کھڑکیاں ،دروازے ،اس کی دیواریں ،اس کے ستون۔ ہم نے گنے ہوئے ہیں۔ آپ بتائیں اس کی کھڑکیاں کتنی تھیں؟ آپ یہ ارشاد فرمائیے اس میں دروازے کتنے تھے؟ کس سمت تھے ؟ستون کتنے ہیں؟ دیواریں کتنی ہیں؟ چھت کس قسم کی ہے؟ فرش کیسا ہے؟اب ظاہر ہے حضور ﷺ معراج پر تشریف لے گئے۔ ایک پتھر جو انبیاء سے پہلے بھی منسوب تھا اور اس پتھر پر بعض انبیاء کو ذبح کیا گیا۔ شہید کیا گیا۔ خون کاداغ اب تک باقی ہے ۔اس پتھر میں ایک سوراخ ہے۔ جس کے ساتھ حضورﷺ نے براق باندھا پھر مسجد میں تشریف لے گئے تمام۔ انبیاء روح مع الجسد وہاں تشریف لائے ۔

یہ کسی کو غلط فہمی نہ رہے کہ صرف انبیاء ؑکی روحیں آ گئیں نہیں ،سارے انبیاء ؑوجود عالی اورروح سمیت جس طرح دنیا میں زندہ انسان ہوتا ہے اس طرح وہاں تشریف لائے آپ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور آسمانوں کو روانہ ہو گئے۔ حضورﷺ کھڑکیاں، دروازے اور روشن دان تو نہیں گنتے رہے۔ لیکن مشرکین نے کہاکہ اگر آپ وہاں گئے ہیں تو آپ کوعلم ہوگا تو حضور ﷺ کا ارشاد حدیث شریف میں ملتا ہے کہ اﷲتعالیٰ نے بیت المقدس میرے سامنے کردی ۔ کفار پوچھتے جاتے ،میں بیت المقدس دیکھ دیکھ کر بتا دیتا ۔کھڑکیاں کتنی ہیں ؟ میں گن کر بتا دیتا ،اتنی ہیں۔ستون کتنے ہیں؟ میں بتا دیتا ، اتنے ہیں۔

پھر انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ اگر آپ بیت المقدس گئے ہیں تو ہمارا ایک تجارتی قافلہ جو بیت المقدس گیا ہواتھا۔وہ راستے میں کہاں ہے؟ آپﷺ نے فرمایا۔ میں نے دیکھا ہے ۔فلاں جگہ پر تھے۔ ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا۔ اس کا یہ رنگ تھا۔ اسے تلاش کر رہے تھے ۔پھر وہ انہیں مل بھی گیا اورتین یا چار دنوں بعد فلاں وقت وہ یہاں پہنچ جائیں گے۔ کافر یہ بھی انتظار کرتے رہے اور عین اس وقت تک قافلہ پہنچ بھی گیا۔ ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ واقعی ہم اس منزل پر تھے اور ہمارا اونٹ گم ہوگیاتھا۔ ہم وہاںسارا قافلہ روک کر اونٹ تلاش کررہے تھے۔ یہ سارے دلائل سننے کے بعد پھر انہوں نے کہہ دیا۔ ہم نہیں مانتے ہیں یہ کوئی جادو ہے۔

آج کلمہ پڑھنے والا، خود کو مسلمان کہلانے والا عالم اور دانشور ہونے کا دعویٰ کرنے والا کہتا ہے یہ خواب ہی تھا لاحول ولا قو ۃ الابااللہ العلی العظیم یہ سب کچھ وجود اطہر ،جسداطہر، کامل نبیﷺ کے ساتھ ہوا ۔نبی کون ہے؟ محمد الرسول اﷲ ﷺ۔ حضور ﷺ نے جبرائیل امین کو ان کے اصل وجود میں دوسری بار دیکھا (۱۳) پہلی مرتبہ افق پر دیکھا تھا۔جب حضرت جبرائیل امین نے زمین و آسمان کو بھر دیا تھا دوبارہ پھراس اصلی وجود میں حضور ﷺ کی ملاقات ہوئی۔ کہاں ہوئی ؟(۱۴)اس بیری کے درخت کے پاس جو آسمانوں اور عرش اولیٰ کے درمیان حدِ فاصل ہے۔ جو انتہا پر ہے۔ جہاں آسمانوں کی حد ختم ہوجاتی ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ وہاں ایک بیری ہے جہاں آسمانوں کی حد ختم ہوجاتی ہے اور آگے عرش الہٰی کے معاملات شروع ہوجاتے ہیں۔اس بیری کاایک ایک پتہ اتنا بڑا ہے کہ ہر پتے پر کسی نہ کسی فرشتے کا دفتر لگا ہوا ہے۔ وہ اس لئے بھی اہم ہے کہ احکام الہٰی عالم بالا سے، اس بیری پر، ان دفاتر میں نازل ہوتے ہیں اوروہاں سے فرشتوں کو تقسیم ہوتے ہیں تو نظام عالم اس طرح چلایاجاتاہے ۔

سارے اعمال جو زمین سے جاتے ہیں اسی سدرۃ المنتہیٰ پر جو بیری ہے وہاں پہنچتے ہیں اورفرشتے وہاں سے وصول کرکے بارگاہ الہٰی میں پیش کرتے ہیں ۔فرمایا جب حضور ﷺ سدرۃ المنتہیٰ پہنچے تو وہ بھی اتنی وسیع جگہ ہے کہ زمین و آسمان کی خلاء سے بڑی ہے وہاں بھی جبرائیل امین کو ان کی اصلی حالت میں حضور ﷺ نے ملاحظہ فرمایا (۱۶) جب حضور ﷺ وہاں پہنچے تو تجلیات ذاتی مترشح ہوئیں ۔

یہ آپﷺ کا مقام ’’ عبدیت ‘‘ تھاکہ وہاں حضور ﷺ کا استقبال فرمایا گیا۔ اﷲ تو ہر جگہ، ہر وقت موجود ہے۔ لیکن قرب الہٰی کے مدارج ہیں۔ تو بھئی جب کوئی بہت پیارا مہمان آتا ہے تو صاحب خانہ بادشاہ بھی ہو تو کم از کم دروازے پر آکر اس کا استقبال کرتا ہے تو فرمایا جب آپ ﷺعالم افلاک کی انتہا پر پہنچے (۱۶) تو تجلیات ذاتِ باری نے، جمال باری نے سدرۃالمنتہیٰ کو ڈھانپ لیا ۔گویا حضور ﷺ کا اﷲ کریم استقبال فرما رہے ہیں ۔آپﷺ تشریف لے آئے۔ مہمان کو میزبان خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ اس کی کیفیات ،اﷲ جانے، اﷲ کا رسولﷺ جانے۔ ہماری سمجھ سے باہر ، قوت گویائی سے بالاتر، الفاظ سے بہت بڑی ہیں، نہ کوئی سمجھ سکتا ہے، نہ کوئی جان سکتا ہے۔ جس نے دیکھا، وہ جانے۔ جس نے دکھایا، وہ جانے ۔ (۱۶) جب اس بیری کو ان تجلیات نے ڈھانپ لیا۔یہ تجلیا ت کیا تھی؟ فرمایا تم نہیں جان سکتے ۔بس یا اﷲ کیسی تجلیات تھیں؟ تیری ذات تھی، تیری صفات تھیں، تو خود جلوہ گر تھا، تیرے انوارات تھے۔

فرمایا یہ باتیں تمہارے سمجھنے کی نہیں ہیں۔ اپنی حد میں رہو ۔یہ سمجھنا میر ا کام ہے یا میں نے جس کو اس عزت سے نوازا ہے۔ اس نے سمجھا ہوگا۔ تم یہ سن لو کہ وہاں تجلیات باری چھا گئی اور(۱۷) جب وہ تجلیات چھا گئیں تو حضور ﷺ کی نگاہ مبارک نہ تو اس سے ہٹی۔ ہوتا ہے ناکہ روشنی ہو گئی، آنکھیں بند ہو گئیں یااتنی روشنی تھی کہ آنکھیں چندھیا جائیں ۔آنکھیں چندھائی نہیں، حضور ﷺ نے دیکھا بچشم وجود ملاحظہ فرمایا(۱۷) نہ آپ کی نگاہ اطہر حد سے بڑھی۔ ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں اس کے پیچھے کیا ہے؟ اس کا سبب کیا ہے؟ یہ کیوں ہے؟ فرمایا نہیں میں نے اپنا جمالِ جہاں آرا دکھا یا۔ میرے محبوبﷺ نے دیکھا ۔نہ وہ گھبرائے، نہ انہیں کوئی جستجو ہوئی، نہ ان کی نگاہ ہٹی ،نہ حد سے بڑھی ۔

اے جاہلو! تم ان پر اعتراض کرتے ہو؟ اس ہستی پہ تمہیں شکوک ہیں؟ اور ان کے ارشادات میں تم شبہے نکالتے ہو (۱۸) انہوں نے اپنے بہت عظمت والے پروردگار کے بے شمار عجائبات دیکھے۔ آپ ﷺ نے جو ارشاد فرما دیے۔ وہ تو چند باتیں تھیں ۔جو ہماری سمجھ میں بھی آ گئیں۔ نمازیں فرض ہو گئیں، ہماری سمجھ میں آ گئیں۔ اب نمازیں کیسے فرض ہوئیں ؟کلام میں لذت ِکلام کیا تھی ؟ حضورﷺ جب اﷲ سے کلام فرما رہے تھے نظر کیا آرہا تھا ؟ تجلیات نظر آ رہی تھیں، یا ذات باری نظر آ رہی تھی۔ کلام کیسے ہورہا تھا؟ یہ تمہارے سمجھنے کی باتیں نہیں ہیں تمہارے سمجھنے کی یہ بات ہے کہ وہاں پانچ نمازوں کا تحفہ ملا۔

اﷲ نے فرمایا آپ ﷺکی امت پر پچاس نمازیں رات دن میں فرض ہیں قبول کر کے آپ ﷺ نے واپسی کا ارادہ کیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے عرض کی یار سول اﷲﷺ واپس جائیے اﷲ کریم سے عرض کیجئے کہ کچھ کم کر دیں۔ میری امت پر دو نمازیں فرض تھیں وہ انہیں پڑھنی مشکل ہو گئی تھیں ۔لوگ چھوڑ گئے تھے۔ آپﷺ واپس تشریف لے گئے۔ دس کم ہو گئیں ،چالیس رہ گئیں ۔واپسی پرحضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر عرض کی۔

حضورﷺ واپس جائیے پھر گئے، تیس رہ گئیں۔پھر گئے ،بیس رہ گئیں۔ پھر گئے، دس رہ گئیں۔ پھر گئے، پانچ رہ گئیں۔ جب پانچ رہ گئیں تو اﷲتعالیٰ نے فرمایا اپنی امت سے کہوروزانہ پانچ نمازیں پڑھے ،میں انہیں پچاس کا درجہ دوں گا۔ جو نمازیںفرض کی گئی ہیں۔ ثواب ان کاملے گا۔ جو رعایت کرکے پانچ کردی گئی ہیں ،پڑھیں پانچ، درجات پچاس کے دوںگا ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر عرض کی یا رسول ا ﷲ ﷺواپس جائیے پانچ نمازیںزیادہ ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا اب مجھے شرم آتی ہے۔ مجھے فرمایا گیا ہے کہ میں پانچ نمازوں کا اجر پچاس کے برابردوں گا ۔اب مجھے اﷲ تعا لیٰ سے حیا آتی ہے۔ میں واپس نہیں جاتا۔ جو نمازیں ہم پر بوجھ ہیں نا۔ یہ تواﷲ تعالیٰ کا انعام ہے کہ ہر وہ بندہ جو حضورﷺ کا دامن تھامے ۔

وہ پانچ بار لازمی مجھ سے ملاقات کرے، اپنے حالات بیان کرے، اپنی ضرورتیں بیان کرے، اپنی حاجتیں بیان کرے۔ بندے نے لینے کے لیے آنا ہے۔ بارگاہ الہٰی نے اسے دینا ہے ،یہ اعزاز ہے مومن کا۔ کہ دن میں پانچ مرتبہ ذاتی طور پر جا کرکہے یا اﷲ مجھے یہ مصیبت ہے ،یہ دکھ ہے، یہ چاہیے ،یہ نہیں چاہیے ۔وہاں مانگتے ہیں نا کچھ دیتے تو نہیں ہیں ،تو پانچ دفعہ اعزار ہے مومن کا کہ اﷲ نے اسے کہا کہ اگر میری ملاقات کو نہیں آؤ گے تو میں ناراض ہو جاؤں گا۔ کمال ہے ہمارا دعویٰ ایمان بھی ہے، ہم ملاقات کے لیے حاضر بھی نہیں ہوتے، کہتے ہیں اﷲتعالیٰ ناراض ہوتا ہے تو ہوتا رہے۔ یہ کون سا اسلام ہے ؟ کون سی مسلمانی ہے یہ ؟

اپنے پروردگار کے حضورﷺ نے بڑے عجائبات دیکھے (۱۸) تمہیں تمہاری عقل کے مطابق بتایا کہ برزخ میں یہ ہورہاتھا، جنت میں یہ ہورہا تھا۔ جنت میں یہ نعمتیں تھیں ۔جو کچھ حضورﷺ نے دیکھا ،وہ تمہاری عقل نہیں سما سکتی ۔بہت بڑی بات تھی ۔ میرے محبوب نے تو جمال باری بھی دیکھا (۱۹) یہاں ایک اور سوال رہ جاتا ہے۔ ایک طبقہ علماء کا فرماتا ہے کہ یہاں اﷲ سے جو ملاقات تھی ۔اس میں حضور ﷺ نے ذات باری کو بھی دیکھا ۔ایک طقبہ علماء کافرماتا ہے کہ نہیں، اﷲ نور ہے۔ اس زندگی میں اﷲ کو دیکھنا ممکن نہیں۔ آخرت میں، قیامت میں سارے مومن دیکھیں گے ۔جو طبقہ اعتدال پر ہے۔ جسے میں ٹھیک سمجھتا ہوں ۔وہ یہ ہے کہ حضور ﷺ جہاں تشریف لے گئے تھے وہاں یہ عالم نہیں تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جوآرزو کی تھی (الاعراف :۱۴۳) و ہ زمین پرکھڑے تھے۔ عالم یہ تھا۔ وجود یہیں تھا ۔

حضور ﷺ نے عالم بالا جا کر کلام الہٰی حاصل کیا ۔آسمانوں سے آگے کی بات تھی۔ وجود اطہر بھی وہیں پہنچ گیا تھا۔ روح اطہر بھی۔اگر وہاں حضور ﷺ نے جمال باری دیکھا تو اس عالم کے احکام کا اطلاق وہاں نہیں ہوتا۔ دیکھا یا نہیں،اس کا تعین نہیں ہوسکتا۔ اﷲجانے، اﷲ کا رسولﷺ جانے ۔لیکن اگر دیدار باری ہوا تو اس میں یہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔ یہ اس دنیا پر لاگو ہوتا ہے۔ جمال باری کی کوئی ایک حد نہیں ہے ۔ قیامت کوہر مومن کو اپنی اپنی بصارت کے مطابق اﷲ کادیدار نصیب ہوگا ۔حضور ﷺ ان عالمین سے اوپر اٹھ گئے تھے۔ میرے بھائی اگر وہاں دیکھا تو آپ کو کیا اعتراض ہے؟ یہ بحث ہماری عقل سے باہر ہے لیکن اگر دیدار باری ہو تو اس میں کوئی رکاوٹ ،کوئی ممانعت نہیں ہے۔ یہاں کے احکام ۔اِس آسمان سے نیچے کے احکام، بالائے آسمان نافذ نہیں ہوتے۔ وہاں کے اپنے احکام ہیں۔ حضور ﷺ نے جمال باری دیکھا اللہ کریم کی باتیں سنیں اور اللہ کریم سے ملاقات بھی ہوئی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button