لوٹن: لارڈ قربان حسین نے پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کے نام ایک مکتوب کے ذریعے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال، ایک بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک اور انتخابی مہم میں لیول پلئینگ فیلڈ نہ دینے اور ملک کی عدالت عظمی کے واضح احکامات کو نظر انداز کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے انتخابات سے قبل تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا اور بالخصوص سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ پیش آنے والے تازہ ترین واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے ایک انتہائی پریشان کن ویڈیو فوٹیج موصول ہوئی ہے۔
اسی حوالے سے انہوں نے آپ کو یہ لیٹر لکھنا مناسب سمجھا کہ آپ تک اپنے جذبات، احساسات و خدشات پہنچا سکوں۔ جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ پاکستان کی اندرونی سیاست میں کسی طور پر بھی ملوث نہیں ہیں لیکن وہ انصاف اور جمہوریت پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور ان کی طرح دوسرے برطانوی پارلیمنٹیرینز جو پاکستان میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں ایک مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر بہت فکر مند ہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے رہائی کے احکامات کے باوجود سابق وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی کی گرفتاری کی جیل کے اندر کے مناظر جو ویڈیو فوٹیج میں دیکھے جاسکتے ہیں افسوسناک اور دل خراش ہیں ،جو بالکل زیادتی، ناانصافی اور توہین عدالت عالیہ کا واضح ثبوت ہیں۔ حکومت کے اس قسم کے اقدامات سے پاکستان کا ایک مثبت امیج بنانے میں بالکل مدد نہیں ملتی جسے ہم پاکستانی اوریجن برطانوی پارلیمنٹیرینز یہاں بہتر بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ براہ کرم ہمارے تحفظات ناراضگی اور مایوسی کا یہ پیغام پاکستان میں متعلقہ حکام تک ضرور پہنچائیں۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ تمام سیاسی قیدی آزاد ہوں اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے برابر کے مواقع مہیا کیے جائیں تاکہ الیکشن صاف اور شفاف طور پر منعقد ہوسکیں۔
دریں اثنا ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے لارڈ قربان حسین کو فوری رسپانس دیتے ہوئے اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان کے خدشات اور تحفظات کو پاکستان میں اعلی حکام تک پہنچائیں گے ۔


