کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
یاد گار تحریر کا آغاز انشاء اللہ خان انشاء دہلوی کے مثالی شعر سے کیا جا رہا ہے ،زندگی تجربات و حوادث کا نام ہے ، زیر نظر یاد گار مضمون ایک ایسے ہی حادثے کے متعلق ہے جس کا شکار ہونے والی شخصیت ایسی تھی کہ بھولنے کی کوئی کوشش کرے تو بھی بھول نہیں پائے گا۔
اکیسویں صدی کے تیئیسواں سال کا آخری ماہ شروع ہو رہا تھااور یہ ۲ /دسمبر ۲۰۲۳ء ہفتہ کا دن تھا ، کیسا بد قسمت دن تھا لیکن چھٹی حس بھی خاموش رہی پتا نہیں کیوں؟ راقم اپنی معمول کی مصروفیات میں تھا کہ اپنا چھوٹا فرزند ارجمند جو ویسے تو شہر اقتدار اسلام آباد کی ایک بڑی جامع میں حصول علم کے لئے قیام پذیر ہے اس روز ہفتہ وار تعطیل کے سلسلے میں گھرآیا ہوا تھا ۔ نصف دن ڈھل چکا تھا کہ وہ جو واقعی روشن خیال ہے اور عقلی طور پر زندگی کی حقیقت پر یقین رکھتا ہے۔
یہ خبر غم لیے اچانک بازار پڑی درویزہ کی طرف سے آیا اور اطلاع کرنے لگا ابو ’’ چوہدری امتیاز ‘‘ فوت ہو گئے ہیں ۔ اس کا بتانا تھا کہ شاید ایک بجلی اپنے جسم پرسے گزر گئی ، سوالیہ نشان بن گیا ، سوال کیا بیٹا کیا ہوا ؟ کوئی حادثہ ہوا چوہدری صاحب کا موٹر سائیکل پر سفر معمول تھا ۔
بچے نے تصدیق کی کہ ہوا حادثہ ہی ہے لیکن بالکل چوہدری صاحب کی رہائش گاہ کے قریب ایک برساتی نالہ زیر تعمیر ہے اس میں چوہدری امتیاز صاحب کا موٹر سائیکل اچانک خلاف توقع بائیں جانب مڑ کر زیر تعمیر نا لے کے اندر چلا گیا اور موصوف شدید مضروب ہیں ، علاقہ میں موجود ایک نجی ہسپتال واقع بھبھٹر چکوال میں لے جایا گیا ہے اور وہاں موصوف کی موت کی تصدیق کر دی گئی ہے اب مرحوم کی میت کو گھر لایا جا رہا ہے ۔ خبر اتنی درد ناک تھی کہ علاقہ بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ہر کوئی جب مرحوم کی موت کی خبر سنتا تو ششدر رہ جاتا فوراً سوال کرتا یہ کیا ہو گیا ہے؟ ۔
سوال پر سوال کر نے لگتا، پھر وہی طفل تسلیا ں دے کر دل کو دلاسا دیتا کہ شاید موت کے وقت اور جگہ کا پہلے ہی تعین ہوتا ہے ۔اب کیا ہونا تھا جو ہونا تھا وہ ہو گیا تھا سوائے افسوس کے سوا کیا ہو سکتا تھا ۔کچھ دیر بعد ہمت کی اب خود چوہدری امتیاز احمد کی میت پر حاضری دی جائے اور سوگواران کے غم میں شراکت کی جائے ۔جن کے غم میں کالم نگار نے شریک ہونا تھا وہ تھے مثالی شخصیت چوہدری امتیاز احمد کے بیٹے چوہدری احسن امتیاز ، چوہدری اطہر امتیاز، دو بیٹیاں اور دو بیوگان جو مرحوم کی نشانیوں کے طور پر زندہ رہیں گے۔
غم زدہ دل کے ساتھ قدم اٹھائے اور چل پڑا،سر راہ ایک محترمہ نے کہا کہ چوہدری امتیاز احمد تو راقم کے دوست تھے، راقم الحروف کا فی البدیح جواب تھا کہ مرحوم صرف اس خوش قسمت کا دوست نہیں تھا وہ دوستوں کا دوست تھا ، وہ دیانتدار تھا ، وفادار تھا ، سمجھدار تھا حتٰی کہ تابع فرمان تھا،بیان کردہ علامات بہت کم افراد میں پوشیدہ ہو تی ہیں ۔
چوہدری امتیاز احمد مرحوم اور راقم الحروف کا ۳۳ سالہ یاد گار سماجی اور سیاسی سفر ہے جس کی یاد کے طور پر یہ سطور رقم کی جا رہی ہیں کیونکہ ۳۳ سال قبل جن چار کرداروں نے پڑی درویزہ میں فلاحی خدمات کا سفر شروع کیا تھا ان میں سے چوہدری امتیاز احمد مرحوم تیسرے کردار تھے جو اس دنیا سے آناً فاناً روانہ ہو گئے صرف اپنی خدمات جذبات کی یادیں چھوڑ گئے۔
اب مذکورہ فلاحی خدمات کی ابتداء کرنے والوں میں سے صرف یہ کالم نگار باقی ہے، خراج عقیدت تو بہت پیش کیا جائے گا لیکن یہ خراج عقیدت ایک یاد گار تحریر کے طور پر سپرد قلم کرنے کی ایک خواہش ہے۔ اب کیا تھا کہ غم زدہ دل کے ساتھ جب چوہدری صاحب کی رہائش گاہ پہنچا سوگواران کا تانتا بندھا تھا جن میں مرحوم کے دیرینہ ساتھی سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل جہلم ، سابق ناظم و چیئر مین یونین کونسل پھلڑے سیداں سید صغیر علی بخاری ، غیاث شاہد جنجوعہ ، چوہدری لیاقت علی دیگر کئی سوگواران موجود تھے۔
راقم نے مرحوم کے بڑے بیٹے احسن امتیاز چوہدری سے بغل گیر ہو کرچشم پرنم کے ساتھ اظہار افسوس کیا تو اس نے بھی خاکسارکو چوہدری امتیاز احمد کا دیرینہ ساتھی قرار دیا ۔ سوگواروں کی موجودگی میں راقم نے بذریعہ واٹس ایپ معاصرہذا جہلم اپڈیٹس میں بڑی خبر غم ارسال کی جو اعلیٰ انداز میں شائع کی گئی جس میں وفات کے علاوہ نماز جنازہ جو ۳ دسمبر بروز اتوار د ن تین بجے کا اعلان بھی شائع تھا ۔
دل میں یادوں کے پھپھولے جلنے لگے تصور یہ کیا کہ جب بھی چوہدری امتیاز احمد کی یاد میں کوئی تقریب منعقد ہو گی تو انتظامیہ سے مخصوص وقت کی درخواست کر کے شرکاء کو مرحوم کی زندگی کی عوامی سماجی اور سیاسی خدمات سے روشناس کراؤں گا اور بہترین انداز میں خراج عقیدت پیش کروں گا لیکن تین دن کے بعد مرحوم کے گھر رسم قل کی تقریب منعقد ہوئی جس کے متعلق خیال تھاکہ شاید بعد میں دسویں کی رسم ادا کی جائے گی۔
مذکورہ تقریب میں پہنچا تو پتا چلا کہ یہی آخری تقریب ہے کیونکہ چوہدری امتیاز مرحوم کے تین بھائی مع خاندان برطانیہ (یو کے ) میں طویل عرصہ سے مقیم ہیں وہ وہاں سے چوہدری صاحب کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے خصوصی طور پر آئے تھے تو جلد ہی واپسی تھی جس کی وجہ سے سوگواری کا سلسلہ جلد اختتام پذیرکر نا پڑا،دینی انداز میں جامع مساجد کے دو خطیب صاحبان نے خوبصورت طریقے سے خراج عقیدت پیش کیا۔
اسی موقع پر چوہدری صاحب کے ایک بھانجے عاصم مجید سے ملاقات ہو ئی جو لاہور ایک بڑے روزنامہ کے دفتر میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ تاہم چوہدری صاحب مرحوم کی یاد میں مرحوم کے نماز جنازہ اور قل کی رسم کی خبریں راقم کی وساطت سے خصوصی طور پر معاصر ہذاجہلم اپڈیٹس ، رونامہ اوصاف ، اساس میں شائع کی گئیں۔
اب یہ الفاظ عالی جناب چوہدری امتیاز احمد کی روح کو مسرت پہنچانے کے لئے سپر د قلم کی جا رہی ہیں کیونکہ مرحوم راقم کے ساتھ۱۹۹۰ء سے سیاسی سماجی خدمات میں مشترکہ سفر میں مصروف عمل ہیں جو ایک یاد گار رہے ۔ اس دوران مرحوم نے جو کچھ راقم کے گوش گزار کیا وہ قارئین اور چوہدری صاحب مرحوم کے ورثا کی نذر کرنے کی قلمی جسارت کی جا رہی ہے،تاکہ چوہدری امتیاز احمد مرحوم کی خدمات ایک ریکارڈ میں آجائیں اور ہر خاص و عام اور نوجوان نسل کے علم میں اضافہ ہو سکے کہ چوہدری امتیاز احمد مکمل طور پر حقیقت میں کیا تھے اور مرحوم موصوف کی زندگی کس انداز میں گزاری ۔اپنے لئے زندگی کا کتنا حصہ صرف کیا اور دوسروں کو اپنا مقصد حیات کس قدر جانا اور سمجھا ۔کسی معروف شاعر کے شعر کی ترجمانی کس طرح کی ؟
اپنے لئے تو جیتے ہیں سب ہی اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
تو چوہدری امتیاز احمد مورخہ۵ مارچ ۱۹۵۴ء کو ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے گاؤں ڈھوک جبہ کے رہائشی حاجی لال حسین کے گھر پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اور گورنمنٹ ہائی سکول پڑی درویزہ سے میٹرک کرنے کے بعد لاہور منتقل ہو گئے۔ گورنمنٹ دیال سنگھ کالج لاہور سے انٹرمیڈیٹ پاس کیا اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کامرس میں گریجوئیشن تک تعلیم مکمل کی۔
قارئین کی معلومات میں اضافے کے لئے سابقہ سینیٹر ملتان سے بزرگ سیاسی رہنما جاوید ہاشمی اور چوہدری امتیاز احمد مرحوم اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے ایک ہی جامع سے فارغ التحصیل ہیں۔زمانہ طالب علمی کے دوران چوہدری امتیاز احمد اسلامی جمیعت طلباء کے سرگرم کارکن رہے کیا ہی اچھا دور تھا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبا ء کی انجمنیں ( سٹوڈنٹ یونین ) ہوتی تھی جہاں سے بہترین سیاسی شخصیات تیار ہو کر عوام میں نمو دار ہو تی تھیں گریجوئیشن کے بعد سے چوہدری امتیاز احمد کے سیاسی سفر کا آغاز ہوا جب وہ سابق صوبائی وزیر خزانہ ، سابق گورنر ، وزیر اعلیٰ حتٰی کے سپیکر پنجاب اسمبلی کے عہدوں پر فائر رہنے والے اور ممتاز محقق کتاب ’’پنجاب کا مقدمہ ‘‘کے خالق محمد حنیف رامے کے انتخابی جلسوں میں بطور نوجوان کارکن تقاریر کرتے رہے ۔ یہ وہ معلومات ہیں جو چوہدری امتیاز احمد سماجی سرگرمیوں کے دوران راقم سے شیئر کرتے رہے ۔
۱۹۸۸ء کے اختتام تک راقم کا چوہدری امتیاز احمد مرحوم سے کوئی باقاعدہ تعلق نہ تھا یعنی کوئی دوستی تھی نہ دشمنی بلکہ صرف نام سے واقف تھایا مشاہدے میں شخصیت تھی اور بس ۔اب ہوا یہ کہ دسمبر ۱۹۸۸ء ختم ہو رہا تھا راقم تو ان دنوں حصول رزق کے سلسلے میں اپنے آبائی علاقہ پڑی درویزہ سے دورپاکستان کے دل میں مقیم تھا ۔
علمی اور عقلی تربیت کا سلسلہ جاری تھا کہ تحریک آزادی ہند و پاک کے مرکزی کارکن ’’کالیاں سہیلیاں‘‘ کہوٹہ میں پیدا ہونے والے ’’دادا امیر حیدر‘‘ کا انتقال ہو گیا جو اُس وقت پاکستان پیپلز پارٹی راولپنڈی کی عہدیدار باجی نصرت رشید کے گھر قیام پذیر تھے، دادا جی کی عمر ۹۰سال سے زائد تھی بے سہارا تھے لیکن باجی نصرت رشید نے مثالی انداز میں اس شخصیت کی خدمت کی ۔ دادا امیر حیدر مرحوم کی وصیت کے مطابق تدفین مرحوم کے آبائی علاقہ ’’کالیاں سہیلیاں ‘‘میں کی گئی ۔
اسی روز یہاں ڈھوک جبہ کے قریب بڑے تاریخی گاؤں پڑی درویزہ میں ایک سماجی تقریب کا انعقاد ہوا جس کے روح رواں راقم کے پڑوسی ماسٹر مظہر حسین تھے ، اس وقت کی معروف سماجی شخصیت حاجی عبدالرحمن عرف جی پی صاحب اس تقریب کے انتظامات میں مرکزی کردار ادا کر رہی تھی ۔ زندگی میں پہلی مرتبہ یہ خاکسار اس تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دے رہا تھا عجیب تجربہ تھا لیکن اس سب کے لئے اپنے پتھر تراشوں کے دیس ٹیکسلا کے دوستوں سید طاہر حیدر، غلام نبی اور عابد علی وغیرہ کا ذکر نہ کیا جائے تو شاید بات تشنہ رہ جائے گی.
انہوں نے راقم کو تحریک دی کہ اس تقریب میں اپنے گاؤں کے نوجوانوں کو ساتھ ملا کر ایک سماجی فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھو اور سر پرستی مذکورہ تقریب کے مہمان خصوصی سماجی شخصیت مرزا مظہر حسین بیگ ازاں حیال مغلاں تحصیل سوہاوہ تھے کے حوالے کرو، پھر مستقبل میں گاؤں علاقہ میں اپنامقام دیکھتے جانا کہ بطور سماجی شخصیت اوج ثریا تک کیسے پہنچ جاؤ گے ۔لہٰذا ایسے ہی ہوا دوران نظامت سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے راقم نے اس مجوزہ فلاحی تنظیم کی پیش کش کا اعلان کیا جسے حاضرین نے زور دار تالیوں کا جواب دے کر خوب سراہا۔
تقریب کی مرکزی سرگرمی دس مستحق خواتین میں مفت سلائی مشینوں کی تقسیم تھی جو کی گئیں ۔یہ سلائی مشینیں مرزا مظہر حسین بیگ نے اپنی ذاتی گرہ سے تقسیم کیں ۔ یہ وہ دن تھا جس روز ابتدائی طور یہ قلمی مدرسے کا طالب علم چوہدری امتیاز احمد سے متعارف ہوا ،اور مجوزہ فلاحی تنظیم کے قیام و عمل میں ساتھ دینے کی درخواست کی جو چوہدری صاحب نے کھلے دل سے قبول کی اور ہر میدان میں ساتھ دینے کا مکمل اتفاق کیا ۔
یہ ۱۹۸۹ء کا اختتام تھا اور ۱۹۹۰ء کا آغاز ہو رہا تھا اپنا سفر چوہدری صاحب کے ساتھ شروع ہو رہا تھا ۔ عبوری طور سوشل ویلفیئر سوسائٹی پڑی درویزہ کے نام سے تنظیم کی ابتداکر دی گئی جس کے پہلے صدر اولذکر حاجی عبدالرحمن عرف جی پی صاحب بنے ، نائب صدر چوہدری امتیاز احمد مرحوم تجویز کیے گئے ۔ جنرل سیکریٹری کے فرائض اس کالم نگار کے سر آئے جبکہ ملک محمد رزاق مرحوم کو مالی ذمہ داریاں بطور خازن سونپی گئیں۔ چند ہی ماہ میں یہ تنظیم مستقل طور پر سرگرم ہو گئی.
اب خاکسار اور چوہدری امتیاز احمد مرحوم کا سماجی سفر کا آغاز ہوتا ہے ۔ ۱۹۹۵ء تک عالیجناب مرحوم اور اس قلمی نے سماجی حوالے سے اس قدر مثالی سماجی فلاحی خدمات پیش کیں کہ علاقہ کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔تنظیم کی سالانہ تقاریب میں سے ایک میں سابق وفاقی وزیر بلدیات پروفیسر عمر اصغر خان جو غیر سرکاری ادارے ’’سنگی فاؤنڈیشن ‘‘ کے روح رواں تھے اور بہت سے ایسے فلاحی اداروں کی آبیاری کرتے تھے کو دعوت دینے کا پروگرام بنایا گیا تو چوہدری صاحب مرحوم ، حاجی عبدالرحمن عرف جی پی صاحب مرحوم، ملک محمد رزاق مرحوم کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے جبکہ یہ قلمی طالب علم اپنی جائے ملازمت سے اس ملاقاتی دورے میں شامل ہوا۔
ان پانچ سالوں کے دوران پہلی مرتبہ سالانہ تقریب کے طور پر ۱۰ مستحق طلباء و طالبات میں سکول یونیفارم تقسیم کی گئی ،جلد ہی تنظیم کے پہلے صدر حاجی عبدالرحمن عرف جی پی صاحب انتقال کر گئے ۔تو باقی ہم تینوں اراکین نے متفقہ طور چوہدری امتیاز احمد مرحوم کو صدر ات کے عہدے کے لئے نامزد کر لیا تھا، جہاں تک یاد پڑتا ہے۱۹۹۳ء اپریل میں اعلیٰ سیرت انسان سابق ایس ایس پی ستارہ قائداعظم راجہ عنائت اللہ خان کی یاد میں علاقہ بھر سے ۴۰سے زائد کرکٹ ٹیموں کی شراکت سے عنایت اللہ میموریل کرکٹ ٹورنا منٹ کا انعقادکیا گیاان یادگار سطور کی وساطت سے راقم قارئین خصوصاً آج کی نوجوان نسل کے علم میں لانا چاہتا ہے کہ جس شخصیت سے منصوب میموریل کرکٹ ٹورنامنٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس شخصیت کی وجہ سے پڑی درویزہ میں ایک گورنمنٹ ہائی سکول ، لنک روڈ پڑی درویزہ اور کیپٹن عطا اللہ خان ڈسٹرکٹ کونسل سول ڈسپنسری پڑی درویزہ جیسی نشانیاں آج بھی معززین علاقہ کے لئے کئی طرح کے سوالیہ نشان پیدا کر رہے ہیں ۔مذکورہ کرکٹ ٹورنامنٹ شروع سے آخر تک مشکلات کا شکار رہا لیکن چوہدری امتیاز احمد مرحوم کی فہم و فراست کے نتیجے میں کامیابی سے ہمکنار ہوا ۔ کامیاب ٹیموں اور کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔
اسی سفر کو جاری رکھتے ہوئے اُس وقت بلدیاتی انتخابات ہوئے جن کے نتیجے میں جندوٹ راجگان کے راجہ محمد شجاع چیئر مین یونین کونسل پھلڑے سیداں منتخب ہوئے تو سوشل ویلفیئر سوسائٹی پڑی درویزہ کی طرف سے نو منتخب کونسلرز بشمول چیئر مین کے اعزاز میں خصوصی ظہرانے کا اہتمام کیا گیا جس میں نصف کی تعداد میں کونسلرز شامل ہوئے تو چونکہ نظامت کار کے طور پر اس قلمی نے نہ آنے والوں پر خوبصورت انداز میں تنقید کی کہ اعلیٰ ظرفی کا ایک پیمانہ ہو تا ہے جو قابل تھے وہ عزت کو قائم کرتے ہوئے ظہرانے میں شامل ہو گئے اور جو نہیں آئے انہوں نے اپنا مقام ظاہر کر دیا، ان دنوں یہ راقم جدید انقلابی نظریات سے متاثر ہوتے ہوئے بہت جذباتی تھا بغیر کسی فکر کے سچائی بیان کر دیتا تھا معاشرتی تقاضوں کی درست پہچان نہ تھی جو اب کافی عیاں ہو چکی ہے ۔
سال ۱۹۹۴ء کے دوران سوشل ویلفیئر سوسائٹی پڑی درویزہ کی سالانہ تقریب چوہدری امتیاز احمد مرحوم کی رہائش گاہ نواحی علاقہ جبہ میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی علاقہ کے معروف ناول نگار ،ڈرامہ نگار،ٹی وی آرٹسٹ ، ادیب شاعر ماہر تعلیم سید طالب بخاری تھے اور سابق ڈپٹی کمشنر و سابق سیکریٹری تعلیم صوبہ پنجاب راجہ ارشاد الحق کیانی نے صدارت کی تھے۔
راجہ ارشاد الحق کیانی نے اپنی گفتگو کے دوران ایک خوبصورت فقرہ بولا جو آج بھی ایک یادگار محسوس ہوتا ہے کیونکہ موصوف ایک مہمان کی حیثیت سے آئے تھے لیکن محترم سید طالب بخاری نے انہیں صدارتی کرسی پر براجمان کر دیا تو اس حوالہ سے انہوں نے میٹھے انداز میں فقرہ بولا کہ ’’ آیا تو ولیمے میں تھا لیکن دولھا بنا دیا گیا ہوں‘‘جو حاضریں نے بہت پسند کیا ۔
اس سے چند ماہ قبل پڑی درویزہ میں اسی فلاحی تنطیم کے زیر نگرانی ایک سوشل ویلفیئر لائبریری قائم کی جا چکی تھی اور اس دارالمطالعہ کا افتتاح نواحی آبادی موہڑہ علیہ کے سیاسی کارکن راجہ ابرار حسین نے کیا تھا ۔لائبریری میں ہر نوح اور قسم کی کتب موجود تھیں ،اخبار بھی مطالعہ کے لئے دستیاب کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
اسی اثنا میں نیلی پہاڑ کے عقبی علاقوں سے چوہدری محمد ثقلین پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے منتخب ہو کر ممبر صوبائی اسمبلی حتٰی کہ مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر فائز ہو گئے یہاں سے ہم نے چند معززین کے ساتھ ایک وفد مرتب کیا اور موصوف مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب کو مبارک باد پیش کرنے ایم پی اے کے آبائی گاؤں’’ لبانہ ہیل‘‘ چلے گئے ۔
اس وفد میں ہمارے علاوہ دو سابق اساتید شامل تھے،جو اب اس جہان فانی میں نہیں ہیں اور ہم دونوں صحافی کی حیثیت سے شریک تھے، چوہدری امتیاز احمد مرحوم اس وقت سوشل ویلفیئر سوسائٹی پڑی درویزہ کے صدر تھے جبکہ قلم کا مسافر جنرل سیکریٹری کی خدمات سر انجام دے رہا۔
مبارک باد کے دورے کے دوران ۱۹۹۵ء کی سالانہ تقریب میں موصوف ایم پی اے و مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب کو خصوصی طور پر دعوت دی گئی جو قبول کر لی گئی یہ یادگار اور سوشل ویلفیئر سوسائٹی پڑی درویزہ کے فورم سے آخری تقریب ثابت ہوئی یہ ۵جون ۱۹۹۵ء کی دوپہر تھی جب زیر تذکرہ شخصیت چوہدری امتیاز احمد اور یہ کالم نگار فلاحی تنظیم کے مرکزی عہدیداران کی حیثیت سے منتظر تھے کہ مدعو شخصیت شاندار انداز میں پہنچ گئی وہ میڈیا کا موجودہ دور نہیں تھا اس لئے پی ٹی سی ایل کے ٹیلی فون کا سہارا تھا اسی سے رابطہ ہوتا تھا۔ یاد رہے کہ اس تقریب ککی صدارت سجادہ نشین دربار عالیہ چھبر سیداں پیر سید غلام علی شاہ نے کی تھی.
سماجی فلاحی تنظیم کے پانچویں یوم تاسیس کی یاد گار تقریب میں جو اس نظامت کار کی طرف سے جو سپاس نامہ پیش کیا گیا اس میں روایتی مطالبات سے ہٹ کر تحصیل صدر مقام سوہاوہ سے چکوال روڈ پر ضلع جہلم کی آخری حد دئیوال تک کو صنعتی زون قائم کرنے کا مطالبہ پیش کیا گیا، جس سے مہمان خصوصی مذکور نے خوب سراہا اور خوبصورت انداز میں جواب دیا کہ ہمارے علاقوں سے منتخب نمائندگان کو صوبائی اسمبلی میں وہ حیثیت نہیں دی جاتی جو کہ صوبہ پنجاب کے مرکزی یا بڑے زرعی آب پاس علاقوں سے منتخب شدہ نمائندگان کو دی جاتی ہے۔
تاہم انہوں نے سپاس نامہ میں پیش کردہ صنعتی زون کے مطالبہ کو تاریخی اور منفرد قرار دیا اور دربار عالیہ چھبر سیداں سے براستہ نیلی پہاڑ ڈھوک اعوان تک پختہ سڑک کی تعمیر کا اعلان کیا تھا جو اب تیار ہوئے عرصہ ہو چکا ہے بلکہ اب مرمتی کی متقاضی ہے ۔ اسی سال اس سماجی تنظیم کی سرگرمیوں کو نظر بد لگ گئی اور سب کچھ دیہی معاشرت کی فقری پسماندگی کی نذر ہو گیا۔ اب چوہدری امتیاز احمد سے صرف ذاتی تعلقات کا سلسلہ باقی رہ گیا لیکن چوہدری صاحب مرحوم ایک ہی وقت میں سماجی خدمات کے ساتھ صحافت کے میدان میں بھی مصروف عمل تھے۔
ان دنوں مرحوم روزنامہ مشرق لاہور سے منسلک تھے اور یہ خاکسار جو ۱۹۸۸ء سے صحافت سے منسلک تھا ۔جب ۱۹۹۵ء کو سماجی فلاحی تنظیم کی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں تو یہ قلمی تو اپنی اعلیٰ تعلیم کی تکمیل کے لے لئے سر گرم ہو گیا اور معاشیات میں ماسٹر ڈگری مکمل کر لی۔
اب وطن عزیز پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت قائم ہو گئی اور اکیسویں صدی کے آغاز پر چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کی طرف سے مقامی حکومت کا نیا نظام متعارف کرایا گیا تو زیر نظر شخصیت چوہدری امتیاز احمد پہلی مرتبہ زندگی میں سیاسی میدان میں اترے اور چیف ایگزیکٹو پاکستان جنرل پرویز مشرف کی نئے متعارف کر دہ مقامی حکومت کے پہلے چار سالہ مقامی حکومت کے دور کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے پلیٹ فارم سے یونین کونسل پھلڑے سیداں کیلئے حلقہ منگھوٹ سے جنرل کونسلر منتخب ہو گئے اور چار سال تک ایک مقامی نمائندہ کی شاندار خدمات پیش کیں ۔
یاد رہے کہ اس جنرل کونسلر شب کے لئے چوہدری صاحب مرحوم کا پہلا انتخابی جلسہ جو مرحوم کی اپنی رہائش گاہ پر منعقد ہو رہا تھا اس تقریب کی نظامت کا اعزاز کا بھی اس خاکسار کے حصہ میں آیا جو ایک یاد گار تھی ۔تقریب کے مہمان خصوصی سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل سید صغیر علی بخاری جبکہ سابق پرنسپل پروفیسر باقر حسین بخاری صدارت کر رہے تھے ۔ اس تقریب میں چوہدری امتیاز احمد مرحوم کو بطور امیدوار جنرل کونسل نامزد کیا گیا ۔
اس وقت سے اب ۲ دسمبر ۲۰۲۳ء تک چوہدری امتیاز احمد مرحوم سے طویل یا قلیل وقفوں سے رابطہ قائم رہا جو اب تو ہمیشہ کے لئے منقطع ہو گیا ہے لیکن چوہدری امتیاز احمد مرحوم کی سیاسی ، سماجی اور بے لوث فلاحی خدمات رہتی دنیا تک یاد اور زندہ و تابندہ رہیں گی۔
آپ قارئین محترم کو علم ہونا چاہیے کہ حالیہ دور میں بھی اپنے حلقہ سے زکوۃ کمیٹی کے سیکریٹری کے طور پر مصروف عمل تھے اور صرف ایک ہفتہ قبل عالیجناب سے شاید آخری ملاقات کا شرف نصیب ہوا جب مرحوم نے اپنے حلقہ کے مستحقین کی فائل مکمل کر کے ایڈمنسٹریٹر زکوۃ کو دینے راقم کے عوامی دفتر میں چنداں ٹھہرے رہے وہ کیا یاد گار گھڑیاں تھیں جو اب کبھی نصیب نہ ہوں گی ۔
یہاں تھوڑا اضافہ یہ کہ چوہدری صاحب مرحوم کی زندگی کا زیادہ تر سیاسی تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے رہا اور آخری حصہ پاکستان تحریک انصاف سے بھی متعلق رہے کچھ سیاسی اختلاف کی وجہ سے چوہدری امتیاز احمد مرحوم چندے عرصہ قبل پی ٹی آئی سے تعلقات کی پاداش میں پابند سلاسل رہنے کے تلخ تجربے سے بھی گزرنا پڑا، یہ سطور نہ صرف چوہدری امتیاز احمد مرحوم کی روح کو سکون کا باعث بنیں گی بلکہ اس قلمی کی طرف سے مرحوم کی روح کے لئے ایک ایصال ثواب کا قدم تصور کیا جائے گا ۔
دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے کر پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ مرحوم کی روح کو زندہ کرنے کے لئے پیر نصیر الدین نصیر گولڑوی ضلع راولپنڈی کی ایک یاد گار شاعری سے ایک شعر بطور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ یاد گار سطور اختتام تک پہنچا رہا ہوں شاید خراج عقیدت ادا ہونے کے قابل ہو سکے ۔
سنے کون قصہ دردِ دل میرا غمگسار چلا گیا
جسے آشناؤں کا پاس تھا ، وہ وفا شعار چلا گیا
یہ اختتامی سطور علامہ اقبال کے منفرد فارسی شعر مع ترجمہ پر سپرد قلم کر تا ہوں :
نشان مرد مومن با تو گویم
چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست
(ترجمہ: میں تجھ کو مرد مومن کی علامت ( نشانی ) بتاتا ہوں ، جب موت آتی ہے تو اس کے لبوں پہ مسکراہٹ ہوتی ہے۔)


