جہلم: سرکار ی سکولوں کی نجکاری کے باعث گزشتہ 2ہفتوں سے پنجاب بھرکے گورنمنٹ سکول اساتذہ کے تعلیمی بائیکاٹ کی وجہ سے بند ہیں ۔ مختلف اضلاع کی ڈسٹرکٹ بار اورکئی دیگر سماجی تنظیمیں بھی سرکاری سکولوں کی نجکاری کے خلاف اساتذہ کے اس تعلیمی بائیکاٹ کی مکمل حمایت کرچکی ہیں۔
ان خیالات کا اظہارضلع جہلم کی تمام اساتذہ تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم گرینڈ ٹیچرز الائنس جہلم کے رہنماؤں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ جو سکول نجی شعبے کے حوالے کیے جارہے ہیں ان سکولوں کی نجکاری کے خلاف اہل علاقہ بھی کھل کر سامنے آرہے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر تعلیم پنجاب نے اس اہم ترین معاملے پر اساتذہ کے ساتھ بات چیت کاکوئی لائحہ عمل ترتیب نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ حکومت پنجاب کے لیے تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں ۔پنجاب بھرکے اساتذہ نے عالمی یوم اساتذہ کو ’’یوم سیاہ‘‘ کے طور پر منایاجس سے ظاہر ہوتاہے کہ پنجاب میں اساتذہ حکومت پنجاب سے کس قدر نالاں ہیں اور انھیں کس قدر ذہنی اذیت میں مبتلاکیا گیا ہے۔
اساتذہ رہنمائوں میں گرینڈ ٹیچرزالائنس کے ضلعی کنوینر ملک محمدافضل میر کے علاوہ راجہ محمد زبیر، چودھری وحیدحیدر، اظہر سلطان ملک، احسان الٰہی شاکر ،چودھری راشد محمود، قاضی مطیع الرحمان، محمدانورسہیل ،راجہ محمد افضل کیانی اور مومنہ ماہرو گوندل شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری سکولوں کی نجکاری کا جو خواب پنجاب حکومت نے دیکھا ہے وہ کبھی پورا نہیں ہوگا۔لیو انکیشمنٹ اور پنشن کے پرانے رولز کو بھی بحال کرنا پڑے گا،ایس ایس ای اساتذہ اور اے ای اوز کو بھی فوری مستقل کرنا پڑے گا۔اس کے علاوہ 17اے کو بھی بحال کرنا پڑے گا۔


