پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اس وقت ملکی سیاست میں ایک نئے امتحان سے گزر رہی ہے، جہاں سیاسی جلسے اور عوامی طاقت کے مظاہرے اس کے بقا کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ بشریٰ بی بی کے مبینہ حکم کے مطابق، جہلم سے 35 ہزار افراد 24 نومبر کو اسلام آباد لے کر جانے کا ہدف دیا گیا ہے۔ یہ ہدف صرف سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ پارٹی کے مقامی لیڈرز کے لیے بھی ایک سخت امتحان بن گیا ہے۔
جہلم، پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں کے عوام روایتی طور پر سیاسی شعور اور جذباتی وابستگی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ تاہم، اس نوعیت کا اجتماع، جہاں 35 ہزار افراد کو متحرک کرنا ہو، ایک ایسا چیلنج ہے جو جہلم کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
جہلم سے تین صوبائی اسمبلی کے اراکین (ایم پی اے) اور دو خود ساختہ قومی اسمبلی کے اراکین (ایم این اے) کو یہ ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ ہر ایم پی اے کو 5 ہزار اور ایم این اے کو 10 ہزار افراد لے کر جانا ہے۔ یہ ذمہ داری ان مقامی رہنماؤں پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے، خاص طور پر اس وقت جب پارٹی کو سیاسی میدان میں سخت مخالفت کا سامنا ہے۔
اگر یہ ہدف پورا نہ ہوا، تو پارٹی قیادت کی جانب سے سخت کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس میں ان رہنماؤں کو پارٹی سے فارغ کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہو سکتا ہے، جو کہ ان کی سیاسی مستقبل کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس دباؤ کے تحت، کئی مقامی رہنما اپنے اثر و رسوخ اور عوامی تعلقات کو بروئے کار لانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
جہلم کی سیاسی تاریخ میں کبھی بھی اس نوعیت کی عوامی تحریک یا اجتماع کی مثال نہیں ملتی۔ یہ چیلنج نہ صرف پارٹی کی طاقت کو جانچنے کا ایک پیمانہ ہوگا بلکہ مقامی قیادت کی مقبولیت اور عوامی رابطے کی صلاحیت کو بھی آشکار کرے گا۔
جہلم جیسے علاقے میں، جہاں عوام کی تعداد محدود اور سیاسی تقسیم واضح ہے، 35 ہزار افراد کا ہدف پورا کرنا آسان نہیں لگتا۔ خاص طور پر موجودہ معاشی اور سماجی حالات میں، عوام کو متحرک کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
24 نومبر کا دن جہلم کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب رقم کر سکتا ہے۔ اگر یہ ہدف پورا ہوا، تو یہ پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی اور مقامی رہنماؤں کی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ لیکن ناکامی کی صورت میں، یہ ان رہنماؤں کے سیاسی مستقبل کو تاریک کر سکتا ہے۔


