میری معلومات کے مطابق تاریخ ڈومیلی پر کسی بھی قلم کار کی اس انداز میں باضابطہ طور پر پہلی کاوش مذکور موصوف کاشف فرید کیانی کی ہے۔ کاشف فرید کیانی جن کا تعلق قصبہ ڈومیلی سے ہے جبکہ وہ روات میں بسلسلہ روزگار اقامت پذیر ہیں۔
بلاشبہ مؤلف موصوف اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام کرنے اور عظیم کارنامہ سرانجام دینے پر داد و تحسین کے مستحق ہیں اور اہلِ علاقہ کو انہیں اس تاریخی کام پر باجماعت مبارکباد پیش کرنی چاہیے۔
یقیناً وہ اس کتاب کو مکمل کرنے کیلئے تنکا تنکا جمع کرنے میں کتنی ہی صبرآزما گھاٹیوں سے گزرے ہوں گے اور کن کن پُرمشقت راستوں میں سرگرداں رہے ہوں گے لیکن بالآخر "دیر آید درست آید” کا مصداق بن کر انہوں نے نسلِ نَو کو ناصرف ان کے ماضی سے جوڑنے کی سعی کی ہے بلکہ اس عنوان پر کام کرنے والوں کیلئے مقدمة الجیش کا کردار بھی ادا کیا ہے۔
اس کتاب "تاریخِ ڈومیلی” میں موصوف نے اپنے گکھڑ اجداد و روساء کے اجمالی تذکرے کے علاوہ قصبہ ڈومیلی کی مختلف اقوام و نامور شخصیات کے تعارف اور دیگر خدوخال پر جہاں قلم کو جنبش دی ہے وہاں متعدد تاریخی حوالہ جات کے ساتھ بلامبالغہ علاقہ ڈومیلی کی ہزاروں سالہ قدیمی تاریخ کا نقشہ بھی کھینچا ہے۔
تاریخِ ڈومیلی میں جہاں علاقہ ڈومیلی کی کم و بیش چار ہزار سالہ قدیمی تاریخ کے نقوش آپ کے سامنے ہوں گے وہاں تصورات کی دنیا میں گویا آپ بھی محوِ سفر ہو کر انہی راہوں پر وہ سارے مشاہدات کر رہے ہوں گے۔ قبلِ مسیح یعنی عیسی علیہ السلام کی آمد سے بھی کم و بیش ساڑھے تین سو برس پہلے سکندر اعظم یونانی آپ کو انہی علاقوں میں اپنے بیوسی فالس گھوڑے پر ایڑ لگائے سرگرداں نظر آئے گا۔
ما بعد کی سلطنتیں جو روم و ایران، ہندوستان و خراسان کے تخت و تاج کو تاراج کرتی یورش پر مشتمل چہار دانگِ عالَم میں پھیلی ہوئی تھیں، ان سلطنتوں کے سفراء کی آمد و رفت، آزمودہ جنگی سپاہیوں کی ٹولیاں، حفاظتی چوکیاں، تُجّار ساربانوں کیلئے قائم سرائے اِسی شاہراہِ تجارت پر واقع تھیں۔
تاریخِ ڈومیلی میں علاقہ ڈومیلی کے اسی پہاڑی سلسلے، چٹیل میدانوں اور سرسبز و شاداب چراگاہوں میں مسلم و غیرمسلم مذہبی پیشواؤں کو مختلف انداز و اطوار میں مست و سرشار دیکھیں گے۔ موجودہ ڈومیلی کی انہی تاریخی شاہراؤں کے اطراف و اکناف میں آپ شمشیر زن غوری، غزنوی، سوری اور ابدالی کے لشکروں کو دیکھیں گے۔
تاریخ ڈومیلی میں اسی علاقہ ڈومیلی میں آپ کو شاہی کرّوفر کے ساتھ مغلیہ بادشاہان جنگ کے میدانوں میں قوت آزمائی کرتے، مذکورہ سرائے یا مہمان خانوں میں قیام کرتے اور اسی علاقے کے گھنے جنگلوں میں شکار کھیلتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ علاقہ ڈومیلی کے انہی راستوں پر آپ عرب و عجم، ہندی و ایرانی تُجّار ساربانوں کے قافلوں کو کشاں کشاں دیکھیں گے جو کوہِ نمک کے پہاڑی سلسلوں پر لمبی قطاروں میں نمک، لوہا، پیتل اور معدنیات کے عوض زعفران کی درآمدات میں مگن نظر آئیں گے۔
تاریخِ ڈومیلی میں آپ کھلی آنکھوں سے پنجاب کے گکھڑ سرداروں کے بیرونی و آپسیں تنازعات اور جنگوں کا بھی مشاہدہ کریں گے۔ تقسیمِ ہند سے قبل اسی قصبہ ڈومیلی میں مختلف مذاہب، رنگ و نسل اور بیشتر اقوام میں بٹے ہوئے لوگوں کا آپس میں مثالی بھائی چارہ دیکھیں گے۔ تقسیم ہند کے پرآشوب دور میں اسی تاریخی قصبہ ڈومیلی سے ہندوؤں اور سکھوں کے قافلوں کو بغیر فساد و کسی جانی نقصان کے بحفاظت ہندوستان لوٹتے ہوئے دیکھیں گے۔
خواہش بخیر! تاریخ ڈومیلی کے مؤلف کاشف فرید کیانی کی مساعی و کاوش کو بارِدِگر داد و تحسین دیتے ہوئے اور ان کے اس تحقیقی کام کو آئندہ کے باذوق محققین کیلئے مددگار زینہ قرار دیتے ہوئے اب یہ خواہش شدت اختیار کرگئی ہے کہ مرزا محمد اعظم بیگ مرحوم کی تاریخِ جہلم (مطبوعہ 1880ء) اور انجم سلطان شہباز مرحوم کی تاریخِ جہلم (مطبوعہ جدید 2017ء) جیسا کوئی جامع اور مفصل کام تاریخِ ڈومیلی پر بھی ہونا چاہیے جہاں بلاتفریق تمام اقوام، مذاہب، مسالک، نامور شخصیات، جغرافیائی حدودِ اربعہ، علاقہ ڈومیلی میں پنجاب کی تہذیب و ثقافت کے نمونے، اس علاقہ کی فصلیں، مختلف انواع کے جانور و پرندے، جڑی بوٹیاں، درختوں کی اقسام، مختلف ادوار کے کرنسی سکے، آلات حرب و ضرب، مساجد و مدارس، مندر و گوردوارے، سکول، کالج، ہسپتال، بینک، ڈاک خانے، پولیس چوکیاں، ریسٹ ہاؤس، کنویں اور دیگر ایسی بہت سی متعلقات جو اس کتاب کی جامعیت کو حاصل ہوں اس موضوع پر بھی کوئی صاحبِ قلم مستند مواد کے ساتھ قلم اٹھائے اور اس قرض کو بھی چُکا چھوڑے۔
پڑی ہے سبقت کی گیند میداں میں
ہے کوئی شہسوار جو آگے بڑھے ؟
لکھاری قاری محمد نعمان فاروقی جامعہ صدیقیہ قادریہ کے مدیر اور مرکزی جامع مسجد مدنی محلہ شمالی ڈومیلی، ضلع جہلم کے خطیب ہیں.


