خراج تحسین / داد تحسین!

کالم نگار شاید اچھا وہی تصور کیا جاتا ہے جو وقت اور حالات کے تقاضوں کے مدِ نظر عوامی بیداری اور روشن خیالی کی تحریک کوجاری رکھے ۔ لکھنے کا تو کوئی اور موضوع تھا لیکن فکر حالات کے ساتھ تبدیل ہو جاتی ہے ۔ جس سے تقاضا ئے وقت کا نام دے دیا جاتا ہے ۔ خراج تحسین ہو یا داد تحسین ہو تعریفی جملے ہوتے ہیں جن کے ذریعے اعتراف کیا جا تا ہے کہ کسی لکھاری نے واقعی جو کچھ سپرد قلم کیا ہے وہ ایک منفرد اہمیت کا حامل ہے ۔ اس تحریر میں اس قلمی کاوش کو درست ثابت کرنے کے لئے حتی مکدور کوشش کی جاتی ہے ۔

آج کی میری اس تحریر میں روایتی تحریروں سے ہٹ کر عنوان کا انتخاب کیا گیا ہے جس کا مقصد ایک ایسی شخصیت کا تعارف مقصد تھا کہ ضلع جہلم کی تاریخ جس کو آج تک فاتحین (حملہ آوروں) کی تاریخ سے روشناس کیا گیا ۔کیونکہ جو کوئی قوت کسی علاقہ پر حملہ آور ہو تی ہے اور مقامی سورمے، محافظین مقابلہ کرنے کے باوجود ہتھیار ڈال دیتے ہیں حملہ آور کی قوت کے معترف ہو جاتے ہیں وہ زبان زد عام شکست خوردہ کہلاتے ہیں جبکہ ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والا فاتح ہونے کا دعویدار بن جاتا ہے ۔ بااثر قوتوں کی ان روایات کو زندہ رکھتے ہوئے ضلع جہلم کی تاریخ کو بھی حقائق سے دور رکھا گیا ۔

دھرتی کے اصل محافظ راجہ پورس جس نے دھرتی کا بیٹا ہونے کے ناطے پوری دنیا کو فتح کرنے والے دعویدار سکندر اعظم کی فوج کا مقابلہ کیا جبکہ نام نہاد روایاتی لکھنے والوں نے اس کے ہاتھیوں کی کمزوری کو ہدف بنا کر اردو زبان میں جملے تک قائم کر لئے جیسا کہ ’’پورس کے ہاتھی ‘‘ وغیرہ پھر بین الاقوامی حملہ آور سکندر اعظم کے گھوڑے کے نام سے جہلم کے لفظ سے منصوب کیا گیا تو کہیں اسی حملہ آور کے کسی گھوڑے بیول کے نام سے تحصیل گوجرخان کی آبادی قصبہ’’ بیول‘‘کا نام قرار دیا جاتا ہے ۔

اب ذرا اصل عنوان کی طرف کہ یہ خراج یا داد کس کے نام کی جا تی ہے تو اس وقت کالم نگار کی مراد چندے عرصہ قبل ضلع جہلم کے سپوت اور فخر جہلم بر صغیر میں مزدور تحریک کے بانی مرزا ابراہیم کے متعلق ایک تحریر جہلم اپڈیٹس کی زینت بنی۔

بہت خوشی ہوئی یہ ہیں جناب فرخ مرغوب صدیقی صاحب جنہوں نے روایات سے ہٹ کر قلم کو متحرک کیا اور جہلم سے دور دراز علاقوں میں عقلی مدرسے کے طالب علم کی بھی یہ تحریر دینے کے لئے حوصلہ افزائی ہوئی اور اپنے کمپوٹر کے’’ کی بورڈ‘‘ پر انگلیاں متحرک ہوئیں اور ایک ضخیم تحریر قارئین کی نذر کے لئے تیار ہو گئی جو بہت طویل وقفے کے بعد جہلم اپڈیٹس کی زینت بنے گی یہ خراج بھی ہو گا اور داد بھی ہوگی۔

محترم جناب فرخ مرغوب صدیقی کے نام ۔ جنہوں نے ایک دم ہٹ کر ایک محنت کش مزدور رہنما مرزا ابراہیم کا انتخاب کر کے کسی انقلابی اقدام سے ہر گز کم نہیں کا انتخاب کیا ۔مرزا ابراہیم کا نام سیاسی شعور سے بالغ افراد کو کم ہی معلوم ہے موجودہ دور میں پچاس سال کی عمر کے افراد کو محنت کش کی سیاست سے دور کا تعلق تک نہ ہے کیونکہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا بھلہ ہو جس نے گزشتہ پچاس سالوں سے ملکی صورت حال کو سیاسی طورپر اس قدر آلودہ کر دیا ہے کہ کسی فرد کو سمجھ تک نہیں آرہی کہ کیا ہو رہا ہے اور مستقبل میں کیا توقع کی جا سکتی ہے ۔

اس صورت حال میں سیاست یا سیاسی شعور کو کو تو شجر ممنوع کے طور پر بنا کر پیش کیا جا تا ہے ۔ جو انتہائی شعوری طور پر بددیانتی کے مترادف ہے ۔ قسم پرسی کے اس عالم میں جب عوام کو صرف اور صرف شہدا ، تمغہ یافتگان کی تاریخ میں گھمانے کا رواج عام ہو تو فرخ مرغوب صدیقی جیسے لکھاری کو کیوں نہ خراج تحسین پیش کیا جائے جو اس دنیا کی ابتداء سے آج تک جس محنت کی اہمیت کو جانتے ہوئے اس عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہیں جس کو آج کے دور میں جاننا بہت بڑی اہمیت کی حامل بات ہے ۔ ان کی یہ کاوش ایک انقلابی قلم ثابت ہو سکتی ہے۔

راقم نے کئی عرصہ سے یہ سطور شروع کر رکھی تھیں کیونکہ راقم الحروف اپنے قارئین کو فخر جہلم بر صغیر پاک و ہند کے محنت کش رہنما مرزا ابراہیم کی شخصیت کے متعلق مزید پردے چاک کرنا چاہتا ہے ۔یہاں اگر میں ماہنامہ منشور اور جناب منظور احمد رضی کا بھی شکریہ ادا نہ کروں تو بھی دستیاب شدہ معلومات سے قرین انصاف نہیں ہو گا۔

اب قارئین کرام کے علم میں اضافہ کے طور پر محنت کش رہنما مرزا محمدابراہیم 1905ء کو ضلع جہلم کے گاؤں کالا گجراں میں ایک چھوٹے زمیندار مرزا عبداللہ بیگ کے گھر پیدا ہوئے ۔ مرزا محمد ابراہیم جوان ہوکر بقول شاعر مشرق علامہ محمد اقبال بلا کتاب پیامبر کارتبہ پانے والے ،دنیا بھر کو سوشلزم /کمیونزم کے جدید معاشی نظریہ سے روشناس کرنے والے کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کے نظریات سے متاثر ہوئے بعد ازاں موجودہ عوامی جمہوریہ چین کے بانی ماؤزے تنگ ، اکتوبر 1917ء پرولتاریہ انقلاب کے بانی سوویت یونین کے پہلے صدر ولادی میر لینن اور ویت نام کے پہلے صدر چاچا ہوچی منہ کے عالمی محنت کش اشتراکی نظیریات سے متاثر ہوئے ۔

مرزا محمد ابراہیم تا حیات مذکورہ نظریات کے پرچار میں مصروف رہے اور تا دم مرگ پوری دنیا کی محنت کش عوام کی طرح عوامی خوشحالی کا خواب دیکھتے رہے ۔ آپ نے عملی زندگی کا آغاز بطور مالی کیا پھر بھٹہ مزدور بن گئے۔1926ء میں برج ورکشاپ جہلم مین مزدور(معاون) کی حیثیت سے بھرتی ہوگئے انہوں نے اپنی سیاسی جدو جہد کا آغاز 1920ء میں خلافت موومنٹ سے کیا ۔اس دوران ترکی ( موجودہ ترکیہ)میں انور پاشا کی تحریک جاری تھی جبکہ ہندوستان میں مولانا محمد علی جوہر ، شوکت علی کی تحریک زوروں پر تھی، مرزا محمد ابراہیم فکری طور پر بہت متاثر تھے۔

ان کے متعلق ماخذ تحریر کے مصنف منظور احمد رضی کے مطابق ، وہ اس وقت کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ تحریک خلافت کے اندر ایک اور تحریک بھی جاری ہے جس کا تصور تھا کہ قیامت آنے والی ہے لہٰذ سب کو اسلام کی طرف راغب کرنا چاہیے لوگوں کو نماز سکھائی جائے کیونکہ مرزا محمد ابراہیم کا آبائی علاقہ کالا گجراں انتہائی پسماندہ تھا کوئی سیاسی تحریک موجود نہ تھی اور نہ ہی کوئی تعلیمی سہولت تھی وہاں کوئی مل یا فیکٹری تو تھی نہیں صرف بے زمین کسان تھے ہرطرف معاشی بدحالی تھی۔پانی کی سخت قلت تھی۔

ماحول اور وقتی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مرزا محمد ابراہیم اور ان کے ساتھی گاؤں گاؤں جاتے اور ایک گیت کے بول دہراتے جو کچھ اس طرح تھے :

نہی پڑھنا جنازہ بے نمازی دا
بے نمازی دے مرے کے وائیں

(جاری ہے)

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button