بریڈفورڈ: دنیا بھر کی طرح لٹل پاکستان بریڈفورڈ میں یوم اقبال انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا گیا۔
خدمت سینٹر بریڈفورڈ میں پاکستان کشمیر یونائیٹڈ فورم کے تعاون سے ہونے والی تقریب میں مختلف طبقہ فکر کی سیاسی سماجی اور مذہبی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور برصغیر کے عظیم شاعر مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا اور اس بات پر زور دیا کہ علامہ اقبال کے پیغام اور فلسفے کو پاکستان کی نوجوان نسل تک پہنچانا اور سمجھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
برطانیہ کے پہلے مسلمان سابق لارڈ میئر محمد عجیب نے اپنے خصوصی خطاب میں اقبال کے آزادی، مساوات اور انصاف کے وژن کی آفاقیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اقبال کا پیغام نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے آج بھی پاکستان سمیت دنیا بھر بالخصوص فلسطین میں جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اقبال کا عالمگیر پیغام ہمیں مسلم اتحاد، یگانگت اور عالمگیر اخوت کی راہ دکھاتا ہے، علامہ اقبالؒ کی فکر سے وابستگی کا یہ تقاضا ہے کہ ہم ان کی سوچ کو ناصرف سمجھیں بلکہ اس پر عمل پیرا ہو کر پاکستان کو حقیقی معنوں میں وہ ریاست بنائیں جس کا تصور علامہ اقبالؒ نے پیش کیا تھا۔
جامعہ مسجد الحِرا کے سینئر امام حافظ آزاد نے اقبال کی قرآن کریم سے محبت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کےنزدیک امت مسلمہ اپنی قوت اور سمت کھو چکی ہے اُمت مسلہ قرآن حکیم کی علمی و فکری ترقی اور ارتقاء کا ماحول زندہ نہ رکھ سکی ان کا قرآن سے تعلق کمزور سےکمزور تر ہو گیا ہے۔ اقبال کی خواہش تھی کہ مسلمان اپنی طاقت اور مطابقت کو دوبارہ حاصل کرنے اور بحال کرنے کے لیے واپس لوٹیں اور قرآن سے دوبارہ جڑیں۔
انیلہ اسلم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں اپنے پیارے وطن سے ہزاروں میل دور اقبال کی میراث کو یاد کر رہے ہیں اور منا رہے ہیں اقبال سے ہماری محبت، پاکستان اور امت مسلمہ کے لیے ان کے وژن کا پتہ چلتا ہے اس طرح کے قومی دن ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے وطن سے دور بہت اہم ہیں یہ ہمیں اپنے وطن کی مٹی سے جوڑے رکھتے ہیں۔
تقریب کی میزبانی کے فرائض بھی انیلہ اسلم اور نیلی خان نے احسن انداز میں سرانجام دئیے جبکہ شرجیل ملک اور مسعود جنجوعہ نے اقبال کی مشہور تصنیف شکوہ جواب شکوہ سے اقتباسات سنائے۔
ارشد کھٹانہ، آصف نسیم راٹھور اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر علامہ اقبال ؒبرصغیر پاک و ہند کے عظیم رہنما تھے اور ان کی خدمات کو پاکستانی قو م ہمیشہ نہ صرف یاد رکھے گی بلکہ احسان مند بھی رہے گی۔ شام کا اختتام صغیر علی خان اینڈ پارٹی کے اقبال کے کام کی کارکردگی کے ساتھ ہوا۔ اقبال کی میراث کی قوت تا دیر زندہ رہے۔ بحیثیت قوم ہمیں ان کے وژن کی آج پہلے سے زیادہ ضرورت نہیں تھی۔
پروگرام کے آخر میں آصف خان نے تمام حاضرین، خدمت سنٹر سٹاف اور پروگرام میں معاونت کرنے والے تمام افراد اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس طرح کے قومی تہواروں پر ثقافتی پروگراموں کا سلسلہ جاری رہے گا۔


