انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
ضلع جہلم بالخصوص تحصیل سوہاوہ اور تحصیل دینہ کے بارانی علاقوں میں مختلف زرعی اجناس جن میں گندم ، باجرہ، مکئی، دالیں اور جانوروں کے لیے چارا وغیرہ کی بہتر پیداوار کے لئے چند سمال ڈیم بنائے گئے تاکہ چھوٹے کاشت کاروں کو بروقت پانی مہیا کر کے بہتر پیداوار حاصل کی جا سکے۔
بدقسمتی سے حکومتی بے حسی، محکمانہ غفلت اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے کوئی ایک ڈیم بھی مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا بلکہ آئے روز پانی کی حصول کے لیے لڑائی جھگڑے ذاتی دشمنیوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
موجودہ صورت حال میں صرف غریب اور چھوٹا کاشت کار گندم کی فصل پر اکتفا کرنے پر مجبور ہے کیونکہ موجودہ موسمی صورت حال کی وجہ سے کھیتوں کو پانی کی اشد ضرورت ہے جو کہ میسر نہ ہونے کی وجہ سے گندم کی فصل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ تین پورہ سمال ڈیم کے کھالے جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور با اثر کاشت کار نا جائز ذرائع استعمال کر کے اپنی فصلوں کو سیراب کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ با اثر افراد غریب کاشت کار سے فی ایکٹر تین سے چار ہزار روپے وصول کر کے سرکاری پانی فروخت کر رہے ہیں جبکہ آبیانہ تمام کاشت کاروں سے پہلے ہی وصول کیا جا رہا ہے۔
تین پورہ سمال ڈیم کے ساتھ جہلم کی تحصیل دینہ کے درجنوں دیہات جن میں نکی، جگیسی، پنڈ جاٹہ، ٹھیکریاں، ہڈالہ، نیو جھنگ، پیر بھچر، کرلہ، ساگری، چھنی، مدوکالس، چک عبد الخالق، ساہو چک، نکودر اور ڈوماں وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام دیہاتوں میں سرکاری پانی کی ترسیل کا کوئی نظام موجود نہیں ہے بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق پانی وصول کیا جارہا ہے جو حکومت وقت اور ارباب اختیار کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔


