جہلم: وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے بجٹ میں یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آمدنی حاصل کرنے والے افراد کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کر دیا ہے۔ اب ایسے تمام افراد جو آن لائن کمائی کرتے ہیں، انہیں اپنی آمدن پر باقاعدہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جو ہر ماہ کی 7 تاریخ تک قومی خزانے میں جمع کرانا لازمی ہوگا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں 17 ہزار 573 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا، جس میں 600 سے 700 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کی تجاویز دی گئیں۔ ان میں سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز سے آمدنی حاصل کرنے والے افراد پر ٹیکس بھی شامل ہے۔
نئے قانون کے مطابق ٹیلی میڈیسن، آن لائن تعلیم (ای لرننگ)، لائیو اسٹریمنگ، ویڈیو مواد، آن لائن بینکاری، ای کامرس، ای اسٹورز اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے وابستہ افراد بھی ٹیکس کے دائرہ کار میں آ گئے ہیں۔ اگر مقررہ مدت تک ٹیکس جمع نہ کرایا گیا تو جرمانہ عائد کیا جائے گا اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
علاوہ ازیں، بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو غیرملکی کمپنیوں سے اشیاء یا خدمات کے بدلے حاصل کی گئی رقوم پر 5 فیصد ٹیکس ماہانہ بنیاد پر جمع کرانا ہوگا۔ مقررہ تاریخ تک ٹیکس ادا نہ کرنے کی صورت میں ان اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو حکومت کو ہر تین ماہ بعد ایک جامع رپورٹ پیش کرنا ہوگی جس میں صارفین کا تفصیلی ڈیٹا موجود ہوگا۔ رپورٹ جمع نہ کرانے پر متعلقہ پلیٹ فارم کو 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی غیر ملکی کمپنی نے تین ماہ تک ٹیکس ادا نہ کیا تو اس کے لیے بینک کے ذریعے رقم کی منتقلی بند کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام ڈیجیٹل معیشت کو باضابطہ بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے، تاہم اس کے مؤثر نفاذ کے لیے شفافیت، سہل ٹیکس نظام اور آگاہی مہم کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کی آن لائن آمدنی کو قانونی تحفظ کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔


