جہلم: حالیہ دنوں میں عوامی حلقوں نے اُن افغانیوں اور اُن کے سہولت کاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ دوبارہ دہرا دیا ہے جو جعلی دستاویزات کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کر کے ملک میں رہائش پذیر ہیں یا دوبارہ واپسی کے بعد دھڑلے سے کاروبار کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ حکومتی اعلانِ انخلاء کے موقع پر 90 فیصد پاکستانیوں نے اس اقدام پر خوشی کا اظہار کیا تھا، تاہم گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ انخلاء کے عمل میں سُست روی کے باعث خدشات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بڑے کاروباری حلقوں میں شامل بعض افغانی تاجروں نے مالی مفاد کے تحت جعلی دستاویزات تیار کروا کر پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کر رکھے ہیں، جب کہ بعض گھروں میں اہلِ خانہ کے درمیان شہریت کے فرق نے پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض خاندانوں میں نصف افراد افغانی رجسٹرڈ دکھائی دیتے ہیں جب کہ باقی نصف پاکستانی شناختی کارڈ ہولڈر ہیں۔ بعض کیسز میں افغانی افراد میڈیکل یا ورکس ویزے کے ذریعے بیرونِ ملک گئے، مگر وہ حقیقتاً افغانی ہی رہتے ہیں جبکہ ان کے گھر پاکستان میں پاکستانی شناختی کارڈز کے حامل ہیں۔
شہریوں اور مقامی سماجی حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ جعلی شناختی کارڈ رکھنے والے افغانی اور ان کے سہولت کار مقامی روزگار کے مواقع پر دسترس رکھتے ہوئے مقامی کاروباریوں اور محنت کشوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چاہے متعلقہ افراد کسی عدالتی حکم امتناعی کے تابع ہوں یا نہیں، سیکورٹی و امیگریشن کے ذمہ دار ادارے، سکریٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام مل کر ایک مربوط حکمتِ عملی اختیار کریں تاکہ جعلی ڈاکومنٹس کی بنیاد پر بننے والی رجسٹریشن کی جلد از جلد نشاندہی اور منسوخی ممکن بنائی جا سکے۔
مقامی لوگوں نے زور دیا کہ جعلی شناختی کارڈز بنانے، تصدیق کرنے اور ایشوز کروانے والے سہولت کاروں کے خلاف تحقیقات تیز کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور عدالتی کارروائی کے بعد انہیں وطن واپس بھیجا جائے تاکہ معاشرے میں امن و امان اور شناختی و سیکورٹی نظام کا احترام بحال رکھا جا سکے۔
عوامی مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ انتظامیہ مقامی سطح پر ایک شفاف آڈیٹ کرے، قومی شناختی ادارے (نادرا) کے ریکارڈ کی تصدیق کے ساتھ ساتھ غیر ملکی شہریوں کی قانونی حیثیت کا از سر نو جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی صورتِ حال کے تدارک کے اقدامات وقت سر کیے جا سکیں۔


