Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: میاں محمد بخش عارف کھڑی شریف!
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

میاں محمد بخش عارف کھڑی شریف!

ایم ڈی طاہر جرال
ایم ڈی طاہر جرال
2 مارچ, 2025
شیئر کریں
شیئر کریں

سیف الموک کے مصنف عارف کامل کھڑی شریف حضرت میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ ، آزاد جموں و کشمیر کے ضلع میر پور میں 1830ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباء واجداد جموں کے رہنے والے تھے جن کی قومیت پسوال گجر تھی۔ بعد میں یہ قبیلہ جہلم اور گجرات کے اضلاع میں نقل مکانی کرگیا۔

میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ کے پردادا نے ضلع گجرات میں چک بہرام میں سکونت اختیار کی۔ اور پھر میرپور کے علاقے کھڑی شریف میں منتقل ہو گئے۔ میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ کے والد کا نام میاں شمس الدین تھا . میاں محمد بخش کے خاندان کی چار نسلیں علاقے کے انتہائی قابل احترام صوفی بزرگ پیرے شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے دربار سے منسلک رہیں۔

ان کے پردادا ( میاں دین محمد رحمۃ اللہ علیہ ) حضرت پیرے شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ اور بعد میں جانشین بنے ،میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کے دادا اور والد بھی اسی دربار عالیہ کے سجادہ نشین رہے۔ میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے بڑے بھائی میاں بہاول بخش رحمۃ اللہ علیہ نے سموال شریف میں حافظ محمد علی کے مدرسہ سے حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ انھیں فارسی اور عربی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ اپنی ابتدائی عمر سے ہی انہوں نے شاعری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

نورالدین عبدالرحمن جامی کی یوسف زلیخا کو پڑھنا ان کا خاص شوق تھا۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ پیر غلام محمد رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد بن گئے۔ انھی کی ہدایات پر انہوں نے سری نگر کا دورہ کیا اور صوفی بزرگ شیخ احمد ولی کے حلقہ ارادت میں شامل رہے۔

ان کے والد میاں شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی موت سے قبل میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ وہ اگلے سجادہ نشین ہوں لیکن میاں محمد بخش نے تجویز پیش کی کہ ان کے بھائی میاں بہاول بخش جو ان سے چند سال بڑے تھے کو سجادہ نشین بنایا جائے۔ اپنے والد کی وفات کے بعد آپ نے تقریباً 4 سال کی عمر میں انھی کے کمرے میں سکونت اختیار کی۔ اس کے بعد انھوں نے مزار سے ملحق جگہ پر گھاس پھونس کی ایک حجرہ نماجھونپڑی بنائی اور 14 سال وہاں قیام کیا۔ 1880ء میں میاں بہاول بخش کے انتقال کے بعد دربار پیرے شاہ غازی کے سجادہ نشین بنے اور اپنی باقی تمام عمر کھڑی شریف میں ہی گزاری۔

میاں محمد بخش کا انتقال 31 جنوری 1907 کوہوا اور حضرت بابا پیرے شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں ہی دفنایا گیا۔ میاں محمد بخش نے ساری عمر شادی نہیں کی۔ میاں محمد بخش کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ جن میں سوہنی ماہیوال، تحفہ میراں، قصہ شیخ سنان، نیرنگِ عشق، قصہ شاہ منصور المعروف منصور حلاج، شیریں فرہاد، تحفہ رسولیہ، گلزارِ فقر، سسی پنوں، مرزا صاحباں، ہدایتِ مسلمین، پنج گنج، تذکرہِ مقیمی، ہیر رانجھا اور سب سے مشہور سیف الملوک۔ جس کا نام انھوں نے خود سفر العشق رکھا تھا۔

میاں محمد بخش اپنے ہم عصر پنجابی کے تمام صوفی شاعروں میں سب سے زیادہ فارسی شاعری سے متاثر تھے جن میں رومی اور جامی قابل ذکر ہیں۔ انھوں نے سیف الملوک صرف 33 سال کی عمر میں مکمل کر لی تھی۔ سیف الملوک فارسی مثنویات کی طرز پر ہے اور اس میں 9270 اشعار اور 64 ابواب ہیں۔ اس کے تمام عنوانات فارسی میں ہیں۔

شہزادے کو سفر میں بے شمار انوکھے اور مخیر العقول واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں اس کا گزر کئی علاقوں سے ہوتا ہے جس میں انسانوں کو کھانے والے لوگوں کا دیس، بڑے بڑے پرندے جو انسانوں کو اٹھا لے جاتے ہیں اور ایک ایسا ملک جس میں صرف خواتین ہیں، بندروں کی سلطنت، اور کوہ قاف کے پہاڑوں میں ایک جن کا ملنا اور اس کی قید میں موجود سراندیپ کی شہزادی ملکہ خاتون اور جن کی جان کا ایک ایسے طوطے میں بند ہونا جو ایک بکس میں قید ہے، شامل ہیں۔

جن اور ملکہ خاتون شہزادے سے وعدہ کرتے ہیں کہ اگر وہ طوطے کو مار ڈالے اور ملکہ خاتون کو رہائی دلائے تو وہ دونوں اسے شہزادی بدیع الجمال تک پہنچا سکتے ہیں۔ مثنوی میں بے شمار باتوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جس میں صوفی موضوعات کو بھی چھیڑا گیا، اور پڑھنے والوں کے لیے بھی بے شمار نصیحتیں کی گئی۔

مثال کے طور پر ایک جگہ میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شہزادہ سیف الملوک روح ہے۔ بدیع الجمال کی تصویر محبت اور خلوص ہے، ملکہ خاتون دل ہے، جن جسم پر چڑھا خول ہے، طوطا خواس خمسہ ہے، اس کا بکس جہالت ہے اور باغ ارم جنت ہے۔ حیران کن طور پر میاں محمد بخش صاحب نے شہزادی بدیع الجمال کا ذکر ان بڑے بڑے کرداروں کے ساتھ نہیں کیا لیکن خوبصورت پیرائے میں اس کو محسوس بھی کروا دیا ہے۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سیف الملوک کا ماخذ داستان الف لیلی ہے۔ جو فارسی، اردو، سرائیکی، سندھی، پشتو، بنگلہ اور پنجابی سمیت کئی زبانوں میں لکھی گئی ہے۔ ان تمام زبانوں کی تصنیفات میں سب سے زیادہ مشہور اور مقبول سیف الملوک ہے۔ پنجاب کے شمالی اضلاع کے لوگ سیف الملوک بڑے ذوق اور شوق سے پڑھتے اور سنتے ہیں۔ اور اکثر علاقوں میں سیف الملوک کے سننے کی محفل کا باقاعدہ انعقاد کیا جاتا ہے۔

سیف الملوک کی ہی وجہ سے لوگوں کی ایک بہت بڑی اکثریت میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ سے خاص محبت اور انسیت رکھتی ہے۔کھڑی شریف میں میاں محمد بخش رحمت اللہ علیہ کے سالانہ عرس کے موقع پر ہزاروں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں، ملک بھر سے اور دنیا بھر سے عقیدت مند کو میاں محمد بخش نے اپنا پتہ اس شعر میں بتا دیا تھا کہ

جہلم گھاٹوں پربت پاسے تے میرپورے تھیں دکھن
کھڑی ملک وچ لوڑن جیڑے طلب بندے دی رکھن

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
1 تبصرہ
  • محمد ادریس ولی نے کہا:
    4 اگست, 2026 وقت 10:37 صبح

    میاں محمد بخش علیہ الرحمہ اور حضرت قبلہ پیرا شاہ غازی قلندر ایک ہی خاندان اور دادا کی اولاد ہیں۔ حضرت پیرا شاہ غازی قلندر کا شجرہ نسب یوں ہے۔ پیرا ولد بختاور ولد قوی ولد مراد ولد شیرو ولد بہرام۔ چک بہرام گاون پیرو شاہ گجرات

    Reply

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
29°C
Jhelum
clear sky
29° _ 29°
75%
2 km/h
پیر
39 °C
منگل
37 °C
بدھ
37 °C
جمعرات
36 °C
جمعہ
33 °C

تازہ ترین

جہلم میں شہدائے کربلا اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا
9 اگست, 2026
پی ڈی ایم اے نے مون سون کا 5 واں اسپیل شروع ہونے کی پیشگوئی کردی
9 اگست, 2026
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم سنگ میل ہے، چوہدری فرخ الطاف
9 اگست, 2026
جہلم میں کرپشن کے خلاف آگاہی واک، شفافیت اور دیانت داری کے فروغ کا عزم
9 اگست, 2026
جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کے خلاف کارروائیاں سخت، 100 سے زائد مشکوک گاڑیاں پکڑی گئیں
9 اگست, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

کیا پولیس ایک ادارہ نہیں؟

23 اگست, 2024

صلہ رحمی

29 اکتوبر, 2024

ایک دوست کی مقدمہ کہانی

19 اپریل, 2024

مہنگی پیٹرولیم مصنوعات کا متبادل حل

10 مئی, 2026

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں