عوامی حقوق پے ڈاکہ، کپتان فاتح قرار

آٹھ فروری کا الیکشن قبل ازوقت متنازعہ بن گیا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان،وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی،چوہدری پرویز الٰہی،شیخ رشید،فواد چوہدری،عالیہ حمزہ،محمود الرشید،حلیم عادل شیخ،عمر سرفراز چیمہ،ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت متعدد اہم راہنماء اور کارکنان کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا۔

متعدد کو اغواء کرکے وفاداریاں تبدیل اور عمران خان کے خلاف بیان بازی کروائی گئی ،گھر اور کاروبار تباہ خواتین کی تذلیل کی گئی ،پی ٹی آئی کو توڑنے کی سرتوڑ کوشش کی،چیف جسٹس پاکستان کی وساطت سے بلے کا نشان بھی چھین لیاگیا۔ امیدواروں سے کاغذات چھینے اور مسترد کیے گئے پی ٹی آئی کو الیکشن سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔

امیدواروں کو بینگن ، مولی، جوتے، ریڈیو، وکٹ، جہاز طرح طرح کے مضحکہ خیز نشانات الاٹ کیے گئے۔ کپتان نے ہار نہ مانی ،متعدد امیدواروں کو اٹھا کر ڈرا کر دستبردار کروایا گیا ،کپتان نے نئے کھلاڑی میدان میں اتار دئیے۔

الیکشن سے محض چند روز قبل سائفر کیس میں عمران خان ،شاہ محمود قریشی ،توشہ خانہ اور عدت میں نکاح کے کیس میں عمران خان اور بشری بی بی کو سزائیں سنائی گئیں،تہمت لگائی گئی عمران خان کے اعصاب کا ہرطرح سے امتحان لیاگیا،بیرون ملک بھجوانے کی آفر کی گئی ،لیکن کپتان ڈٹا رہا۔

الیکشن میں عوام نے ظلم کا بدلہ ووٹ کی طاقت سے لیا،عوام نے پاکستان بھر میں کپتان نے نئے کھلاڑیوں کو دو تہائی سے زائد اکثریت سے کامیاب کروایا ،پی ایم ایل این کی قیادت اور تمام حلقوں سے امیدوار رزلٹ سنتے ہی نو بجے دفاتر کو تالے لگا کر گھروں کو روانہ ہوگئے،پھر اسٹیبلشمنٹ متحرک ہوئی اور رزلٹ رک گئے۔

(ن)لیگی قیادت کی جان میں جان آئی،بڑی ڈیل کے بعد عوامی حقوق پر ڈاکہ مارا گیا اور رزلٹ تبدیل ہونا شروع ہوگئے، پچاس سے زائد قومی اسمبلی کے حلقے جہاں فارم 45کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار جیت چکے تھے وہاں شب خون مارا گیا۔

نواز شریف، مریم نواز، عون چوہدری، علیم خان، خواجہ آصف، سالک حسین، حنیف عباسی، حمزہ شہباز سمیت متعدد اہم راہنماء جو ہار چکے تھے انکو جتوایا گیا۔ اسلام آباد، اٹک، ٹیکسلا، راولپنڈی، جہلم، چکوال، تلہ گنگ، گجرات، منڈی بہاؤالدین، گوجرا نوالہ، سیالکوٹ، لاہور، ملتان، جنوبی پنجاب، کراچی، کوئٹہ میں رزلٹ بدل کرپی ٹی آئی کے جیتے ہوئے آزاد امیدواروں کو ہروادیاگیا۔

عالمی اور مقامی میڈیا سمیت جماعت اسلامی، اے این پی اور دیگر جماعتوں نے دھاندلی کو بے نقاب کیا لیکن 1985سے اسٹیبلشمنٹ کے کندھے استعمال کرکے سیاست کا آغاز کرنے والے نواز شریف نے عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کیا،حقائق جانتے ہوئے بھی وکٹری اسپیچ کر دی۔

کپتان کے کھلاڑی فارم45لیکر الیکشن کمیشن اور عدالتوں کا رخ کررہے ہیں، شاید کچھ حلقوں میں نتائج بدل جائیں لیکن پاکستان میں پہلے کونسا انصاف پی ٹی آئی کو ملا ہے جو اب مل جائے گا۔ بہر حال جو بھی ہو پوری دنیا نے دیکھ لیا، کپتان جیل میں رہ کر جیت گیا، تمام جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ تمام حربوں کے باوجود ہار گئی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کپتان سے ملیں،ماضی کو بھلا کر بہتر مستقبل کے لیے سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کے لیے سوچ بچار کریں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button