پاکستان میں انتخابات کون جیتے گا، مصنوعی ذہانت نے جواب دے دیا

ضلع جہلم سمیت ملک میں آئندہ عام انتخابات 8 فروری 2024 کو شیڈول ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں اپنی کامیابی کا دعویٰ کررہی ہیں۔ ایسے میں مصنوعی ذہانت نے بھی ملک میں الیکشن کی کامیابی کے حوالے سے کیے گئے سوال کا جوب دیا ہے۔

پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر بہت سے لوگ حیران ہیں کہ 8 فروری کو ہونے والے پاکستان کے عام انتخابات میں کون جیتے گا۔

الیکشن کمیشن کے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق حالیہ فیصلے نے پہلے ہی مشکلات میں گھری پی ٹی آئی کو بظاہر کمزور کر دیا ہے اور انتخابات میں تحریک انصاف کی پوزیشن کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو چکے ہیں۔

اگرچہ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ عدالتی حکم اور سابق وزیر اعظم کے خلاف مقدمات کے بعد 2024 کے عام انتخابات میں عمران خان کی پارٹی کی جیت کے امکانات بہت کم ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی پیش گوئی

اس حوالے سے ہم نے مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز(Bard, ChatGPT) اور (Bing AI) سے پوچھا کہ 2024 میں پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں کون کامیابی حاصل کرے گا؟۔

جس کا جواب (Bard, ChatGPT) نے کچھ اسطرح دیا کہ 2024 کے عام انتخابات میں کون فاتح ہوگا، اس بارے میں یقین کے ساتھ پیش گوئی کرنا ”ناممکن“ ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو ’انتہائی متحرک‘ قرار دیا گیا ہے۔

گوگل اے آئی پلیٹ فارم بارڈ کا خیال تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کارکردگی، سیاسی اتحاد، نئے سیاسی کرداروں کا ابھرنا اور غیر متوقع واقعات کچھ ایسے عوامل ہیں جو نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان قانونی مشکلات کے باوجود مضبوط امیدوار ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کو اپنی کامیابیوں کو آگے بڑھانے اور ووٹرز کی تھکاوٹ سے نمٹنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔

اے آئی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنی وفاق میں کارکردگی بڑھانے کے لئے ممکنہ اتحاد کی طرف جاسکتی ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ چھوٹی پارٹیاں ’کنگ میکرز‘ کا کردار ادا کر سکتی ہیں اور انتخابات سے قبل نئے اتحاد ابھر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ بہت سے سیاست دانوں نے 9 مئی کے واقعات کے بعد مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد بننے والی جماعتوں کے لئے ”کنگز پارٹی“ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک فاتح پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے پر نظر رکھنا، یہ دیکھنا زیادہ مفید ہے کہ بڑی جماعتیں اہم مسائل کو کس طرح حل کرتی ہیں اور رائے عامہ کے رجحانات کی نگرانی کرتی ہیں۔

چیٹ جی پی ٹی

چیٹ جی پی ٹی نے ہم سے معافی مانگی کیونکہ وہ مستقبل کے واقعات کی پیش گوئی نہیں کرسکتا تھا۔

بیان میں کہا کہ انتخابی نتائج پر سیاسی پیش رفت، رائے عامہ اور غیر متوقع واقعات جیسے عوامل کے پیچیدہ باہمی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور مشورہ دیا کہ تازہ ترین پیشرفت کے بارے میں جاننے کے لئے معلومات کے قابل اعتماد ذرائع پر عمل کیا جانا چاہئے۔

Bing AI Chat

اس حوالے سے بنگ اے آئی چیٹ بوٹ کے لئے ، کچھ بھی کہنا قبل از وقت تھا۔ لیکن اسے انتخابات کی تاریخ کا علم تھا۔ پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی تین بڑی جماعتیں ہیں۔

اس نے کہا کہ انتخابات کے نتائج کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ ابھی دور ہیں اور بہت سے عوامل نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button