جہلم سمیت پنجاب بھر میں کم سن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی اطلاعات نے والدین اور شہری حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض واقعات میں انتہائی کم عمر بچوں سے لے کر 10، 12 سال تک کے بچے بھی مبینہ طور پر جنسی جرائم کا نشانہ بن رہے ہیں، جبکہ بعض کیسز میں زیادتی کے بعد بچوں کے قتل کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے خصوصی اور مؤثر قانون سازی کی جائے، جس کے تحت ایسے مقدمات کی فوری اور تیز رفتار تفتیش، متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو قانونی تحفظ اور قانون کے مطابق سخت سزا کو یقینی بنایا جائے۔
عوامی حلقوں نے تجویز دی ہے کہ بچوں سے متعلق مقدمات کی مؤثر پیروی کے لیے خصوصی عدالتیں اور ماہر تفتیشی یونٹس قائم کیے جائیں تاکہ حساس نوعیت کے مقدمات طویل عرصے تک زیرِ التوا نہ رہیں اور متاثرہ خاندانوں کو بروقت انصاف مل سکے۔
شہریوں کے مطابق سکولوں، مدارس، پارکوں اور بچوں کی آمدورفت والی دیگر جگہوں پر حفاظتی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ایسے واقعات کی فوری رپورٹنگ کے لیے بھی مؤثر نظام قائم کیا جائے، بالخصوص ایسے افراد کے حوالے سے جو بچوں کو بہلا پھسلا کر اپنے قریب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق محفوظ اور غیر محفوظ رویوں، اجنبی افراد سے محتاط رہنے اور کسی بھی نامناسب رویے کی فوری اطلاع دینے کے حوالے سے اعتماد کے ساتھ آگاہ کریں تاکہ بچے کسی ناخوشگوار صورتحال کی صورت میں بروقت والدین یا کسی قابلِ اعتماد فرد کو آگاہ کر سکیں۔
شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے معاملے کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں اور حساس نوعیت کے ایسے مقدمات کو کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) جیسے ماہر تفتیشی اداروں کے ذریعے مؤثر انداز میں نمٹانے کے لیے مناسب حکمتِ عملی اختیار کی جائے، تاکہ بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام اور متاثرین کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔


