تحصیل پنڈدادنخان اور اس کو درپیش مسائل

تحصیل پنڈدادنخان کی آبادی سات لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے اور اس تحصیل کو اگر پنجاب کی پسماندہ ترین تحصیل کہے تو غلط نہ ہوگا۔ اس وقت اس تحصیل کا سب سے بڑا مسئلہ للِہ تا جہلم دو رویہ سڑک ہے جس پر پوری تحصیل سراپا احتجاج ہے۔

تقریباً 16 ارب روپے کی خطیر رقم سے یہ منصوبہ تین سال پہلے اس وقت کے وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین کی طرف سے شروع کیا گیا لیکن فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تاحال مکمل نہ ہوسکا۔ اس روڈ کا کریڈٹ بلاشبہ چوہدری فواد حسین کو جاتا ہے جبکہ اس کی تعمیر رکنے کا کام PDM کی حکومت کے سر جاتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما چوہدری فواد حسین کے دور میں اس تحصیل میں ڈویل کیرج وے للِہ تا جہلم روڈ منصوبے سمیت ٹوبہ کے مقام پر ٹراما سنٹر، پنڈدادنخان شہر میں پاسپورٹ آفس اور EOBI آفس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے علاوہ جلالپور کندوال نہر کا کام بھی انہی کے دور میں شروع ہوا لیکن اس کے باوجود چوہدری فواد حسین ان میں سے کوئی کام بھی مکمل نہ کرا سکے اور نہ ہی کسی ایک پروجیکٹ کے بھی پورے فنڈز ریلیز کروا سکے۔

اس کی وجہ سے سوائے جلالپور کندوال نہر کے تمام پروجیکٹ التوا کا شکار ہے، جلالپور کندوال نہر پراجیکٹ میں کیونکہ ورلڈ بینک کا حصہ ہے اس لیے اس پر کام تیزی سے جاری ہے اور اس نہر کا ایک فیز مکمل ہونے کے قریب ہے۔ پنڈدادنخان تحصیل میں ڈویل کیرج وے جہلم روڈ کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کا ہے۔

پنڈدادنخان شہر میں دو مرتبہ ایم پی اے منتخب ہونے والے چوہدری نذر حسین گوندل نے سیوریج سسٹم متعارف کرایا جوکہ شہر میں مکمل طور پر فلاپ ہوا اور اس کی مین وجہ سیوریج میں ڈالے گئے پائپ لائن کے سائز کا ہے۔ اگر یہ پائپ بڑے ڈالے جاتے تو شاید سیوریج سسٹم کامیاب ہو سکتا۔

اس کے علاوہ شہر میں صفائی اور نکاسی آب کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے، صفائی کے نظام میں جہاں ہم میونسپل کمیٹی پنڈدادنخان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں وہاں پر ہم خود بھی ذمہ دار ہیں کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے اور ہم اپنے گلی محلے میں صفائی کا خیال نہیں رکھتے، اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ باہر پھینک دیتے ہیں جبکہ میونسپل کمیٹی کی طرف سے شہر بھر میں مختلف مقامات پر کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ مختص کی گئی ہیں لیکن افسوس ہم ان جگہوں کی بجائے باہر کوڑا کرکٹ ڈالنا پسند کرتے ہیں۔

تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پنڈدادنخان میں کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر موجود نہیں، ڈاکٹرز نہ آنے کی مین وجہ ڈاکٹرز کی رہائش گاہیں نہ ہونا ہے۔ ہسپتال میں نصب آٹومیٹک بلڈ پریشر مشین کی کئی سالوں سے مرمت نہیں کی گئی جس کی وجہ سے بلڈ پریشر صحیح بتانے سے قاصر ہے۔ ای سی جی مشینیں بھی ہارٹ کا پرابلم بتانے سے قاصر ہیں۔ باقی ہسپتال صرف ڈاک خانہ کا کام کر رہا ہے، مریض کو سرگودھا، جہلم یا راولپنڈی ریفر کرنے کا کام بہت خوبی سے سر انجام دے رہا ہے۔

پنڈدادنخان شہر میں واپڈا کی لٹکتی تاریں، صاف پانی کی فراہمی، گیس پریشر میں کمی سمیت متعدد مسائل ایسے ہیں کہ اگر میں ایک ایک مسائل بیان کروں تو شاید تحریر ختم ہی نہ ہو۔ قصہ مختصر ہماری تحصیل کی پسماندگی کا ذمہ دار کون ہے، کیا ہم ساری زندگی ایسے ہی گزار دیں گے؟، اپنے مسائل اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے چھوڑ دیں گے؟

ہم کب اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں گے اور کب اپنے حقیقی نمائندے منتخب کریں گے جو صرف ہماری غمی خوشی میں شریک ہوکر فوٹو سیشن کرواتے ہیں ان کو سلیکٹ کریں گے یا جو حقیقی طور پر ہمارے علاقے کی پسماندگی دور کرنے میں مخلص ہیں ان کو سلیکٹ کریں گے؟۔

ہم اپنے قریبی ضلع چکوال اور ضلع منڈی بہاؤ الدین کو دیکھ لیں تو ہمارے لیے کافی ہے، ان اضلاع میں ترقیاتی کاموں اور کاروباری سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ ہمارے منتخب نمائندے آج تک کیا کرتے آئے ہیں اور ہم پھر بھی ہر دکھ درد بھلا کر ان کو اپنا قیمتی ووٹ دیتے ہیں۔ میرا ہر گز کسی بھی سیاسی پارٹی یا قیادت کو نشانہ بنانا مقصود نہیں ہے، میں جنرل بات کر رہا ہوں کہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال ہی ہمارے علاقے کی پسماندگی دور کر سکتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button