جہلم کے اندرونِ شہر اور گردونواح میں مرغیوں کے فضلے سے بھری گاڑیوں کی غیر محفوظ آمد و رفت شہریوں کے لیے شدید اذیت کا باعث بن گئی ہے۔ کھلے ڈرموں اور بغیر کور چلنے والی ان گاڑیوں سے اٹھنے والی ناقابلِ برداشت بدبو نے نہ صرف ماحول کو بری طرح آلودہ کر رکھا ہے بلکہ شہریوں کی صحت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر کی اہم اور پرہجوم سڑکوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں سے روزانہ مرغیوں کے فضلے سے لدی گاڑیاں گزرتی ہیں، جن میں نہ تو مناسب کور ہوتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ خاص طور پر شام کے اوقات میں ان گاڑیوں سے اٹھنے والی شدید بدبو فضا میں پھیل جاتی ہے، جس کے باعث شہریوں کا سانس لینا دوبھر ہو جاتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ ناگوار بدبو طویل وقت تک فضا میں برقرار رہتی ہے، جس کے نتیجے میں کھانسی، سانس کی تکالیف، الرجی اور دیگر طبی مسائل میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ بزرگ، بچے اور مریض طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، جبکہ دکانداروں اور راہگیروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ ماحولیات اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس سنگین مسئلے پر کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی، جس کی وجہ سے صورتحال دن بدن مزید بگڑتی جا رہی ہے۔ شہریوں کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ ایک بڑے ماحولیاتی اور صحت عامہ کے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نوٹس لیا جائے، مرغیوں کے فضلے کی ترسیل کے لیے محفوظ اور منظم نظام متعارف کروایا جائے، فضلہ بردار گاڑیوں کو باقاعدہ کور کرنے کا پابند بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہری صاف ماحول میں سانس لے سکیں اور بیماریوں سے محفوظ رہیں۔


