جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں غیر مقامی باشندوں کا تناسب 15 سے 20 فی صد ہو چکا ہے، شہر اور مضافاتی علاقوں میں غیر ملکیوں نے ڈیرے جما رکھے ہیں ، بیشتر افغانیوں نے جعلی شناختی کارڈ بھی حاصل کر رکھے ہیں۔
جہلم شہر کے بازاروں میں موجود دکانوں پر ، خصوصاً نان شاپس ، ہوٹلز، ڈرائی فروٹ،کپڑا ، جوتے ، چنے بھوننے ، چپل کباب ، الیکٹرونکس ،ٹرالی ، مزدوری ، روزمرہ ضرورت کی چیزیں ، حتی کہ جوتے پالش اور مرمت بھی تمام کاروباروں پر غیر مقامی باشندوں کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔
مضافاتی علاقوں میں واقع مدرسوں میں حفظ کے درجنوں طلباء (نان پنجابی ) دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جی ٹی روڈ اور ملحقہ سڑکوں پر آفریدی ہوٹل ، شنواری ہوٹل ، خیبر ہوٹل ، کابل افغان لوگر ہوٹل ، خیر آباد ہوٹل، افغان نمکین ہوٹل بلکہ یہاں تک کہ اب محلے داروں نے اپنی حفاظت کے لیے چوکیدار بھی غیر ملکی رکھے ہوئے ہیں۔
بازاروں میں بھی چوکیداروں کی ذمہ داریاں غیر ملکیوں نے سنبھال رکھی ہیں، مشرف دور کے بلدیاتی الیکشن میںپختون اتحاد کا دعویٰ تھا کہ ان کا سینکڑوں ووٹ رجسٹرڈ ہے اور اگر یہ بات سچ ہے توآج دو عشروں بعد کیا صورتحال ہوگی۔
شہری، سماجی، رفاعی اور فلاحی تنظیموں کے عمائدین نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ جعل سازی سے شناختی کارڈ حاصل کرنے والے اور غیر ملکیوں کی تصدیق کرنے والے ذمہ داران کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں تاکہ بے روزگاری کا خاتمہ اور معاشی حالات بہتر ہو سکیں۔


