کھیوڑہ: قدیم سیاحتی شہر کھیوڑہ میں قائم پاکستان پوسٹ آفس کی خستہ حال عمارت حالیہ طوفانی بارشوں کے بعد مزید خطرناک صورتحال اختیار کر گئی ہے۔ عمارت کا مرکزی شیڈ گرنے کے بعد کسی بھی وقت بڑے حادثے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ شہریوں اور ملازمین نے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان میں کھیوڑہ پوسٹ آفس کی بوسیدہ عمارت کے حوالے سے متعدد بار متعلقہ محکمانہ حکام کو آگاہ کیا جا چکا ہے۔ سوشل اور پرنٹ میڈیا پر بھی اس عمارت کی خستہ حالی کو اجاگر کیا گیا، تاہم محکمانہ غفلت اور عدم توجہی کے باعث تاحال کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔
حالیہ بارشوں کے دوران عمارت کا مرکزی شیڈ زمین بوس ہو گیا جبکہ دیواروں، چھتوں اور اندرونی حصوں میں مزید دراڑیں پڑنے سے عمارت کی حالت انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی سڑک کی تعمیر کے بعد پوسٹ آفس کی عمارت سڑک کی سطح سے تقریباً ایک فٹ نیچے ہو گئی ہے، جس کے باعث بارش کا پانی عمارت کے اندر اور اطراف میں جمع ہو کر تالاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
مستقل بنیادوں پر پانی کھڑا رہنے سے عمارت کی بنیادیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں، جس سے پوری عمارت کے منہدم ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت نہ صرف بیرونی طور پر بلکہ اندرونی سطح پر بھی روزانہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور چھتوں و دیواروں سے مٹی اور ملبہ گرنے کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔
اس خطرناک صورتحال کے باوجود پانچ سے چھ افراد پر مشتمل عملہ روزانہ اسی عمارت میں فرائض انجام دے رہا ہے جبکہ درجنوں شہری بھی روزمرہ ڈاک اور دیگر امور کے سلسلے میں یہاں آتے ہیں، جس سے کسی بھی وقت انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاحال نہ تو عمارت کو خالی کروایا گیا ہے اور نہ ہی عملے کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں نے وفاقی وزیر برائے مواصلات، ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر کھیوڑہ پوسٹ آفس کی خطرناک عمارت کو خالی کروایا جائے، عملے کو عارضی طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے اور نئی عمارت کی تعمیر ہنگامی بنیادوں پر شروع کی جائے تاکہ کسی ممکنہ سانحے سے قبل مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔


