Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: فیس بک کی دوستی حقیقت کیا افسانہ کیا ؟
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

فیس بک کی دوستی حقیقت کیا افسانہ کیا ؟

پروفیسر افتخار محمود
پروفیسر افتخار محمود
21 نومبر, 2025
شیئر کریں
شیئر کریں

پانچ ماہ کے طویل وقفے کے بعد مضمون کا تحفہ اپنے معزز قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے جو کہ معمول زمانہ سوشل میڈیا صارفین کے حوالہ سے ہے، تقاضائے فکر ہے کہ گزشتہ 35 سال سے ایسے شعبہ زندگی سے منسلک ہوں کہ جس کی ذمہ داری ہے کہ اپنے گرد و نواح ہونے والی غیر معیاری سرگرمیوں کا جائزہ لے اور ان کی وضاحت کرے تاکہ معاشرے کے اہلِ عقل قارئین تو سمجھ اور فکر رکھتے ہوئے درست راہ اختیار کر سکیں۔

اس لیے ایک طویل غور و فکر کے بعد فیصلہ لیا کہ بے لگام سوشل میڈیا جہاں ایڈیٹنگ کا کوئی تصور تک نہیں ہے کے ایک پرت جس کا نام ’’فیس بک‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے یعنی ’’چہرہ ایک کتاب‘‘ تصور کیا جاتا ہے، کی حقیقت اپنے قارئین پر واضح کرنے کی قلمی سعی کروں، شاید یہ قلمی کاوش کسی حد تک نتیجہ خیز ثابت ہو سکے۔ ذاتی طور پر تو یہ کالم نگار/قلمی مسافر سوشل میڈیا کو سرے سے پسند یا تسلیم تک نہیں کرتا کیونکہ دنیا کا کوئی عمل یا سرگرمی جس کی درستی کے لیے کوئی رہبر و رہنما نہ ہو اس کی حقیقت بہت ہی کم ہوتی ہے۔ مراد ایڈیٹنگ یا درستگی اور پڑتال وغیرہ ہے۔

جہاں تک ’’فیس بک‘‘ لفظ کا تعلق ہے تو لفظی ترجمہ تو کچھ اس طرح ہے کہ ہر انسان کا چہرہ ایک کتاب ہے، واضح رہنا چاہیے کہ یہ اصطلاح شعبہ نفسیات میں استعمال کی جاتی ہے جسے ’’چہرہ شناسی‘‘ کے حوالہ سے جانا جاتا ہے، مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ ہر انسان کے چہرہ کے تاثرات سے یہ علم ہو جاتا ہے کہ یہ فرد کس طرح کی فکر کا حامل ہو سکتا ہے یا اس کی پسند و ناپسند کیا ہو سکتی ہے؟

اب اپنے اصل موضوع کی طرف قلم کا رخ کیا جاتا ہے کہ اس فیس بک پر دوستی کا جو سلسلہ جاری ہے اس کا کوئی معیار مقرر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ کالم نگار انتہائی فکر مند ہے کیونکہ آئے روز اس فیس بک دوستی کے نتیجے میں ہمارے گرد و نواح کتنے افراد بلا وجہ متاثر ہو رہے ہیں، اچھے کم لیکن معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والے نتائج زیادہ مشاہدے میں آرہے ہیں۔ کیونکہ عام معاشرے میں ایک فرد کی دوستی کے حوالے سے کوئی معیار مقرر نہیں ہے، جیسا کہ کچھ اہلِ فکر و نظر کے مطابق لفظ دوست چار اردو الفاظ کا مخفف قرار دیا جاتا ہے کہ دیانتدار، وفادار، سمجھدار اور تابع فرمان جیسی خصوصیات کا حامل فرد آپ کا بہتر دوست ممکن ہو سکتا ہے۔

اب ایک تصویر میں موجود ایک چہرہ سے کیسے اندازہ یا کیا فہ لگا یا جا سکتا ہے کہ جس شخص کی یہ تصویر ’’فیس بک‘‘ پر آویزاں کی گئی ہے یہ فکری طور پر کس معیار کا فرد ہے، کیا دوستی کے قابل بھی ہے یا نہیں۔ اس سے مزید گہرائی میں جائیں تو خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کی پیش کردہ دوستی کے معیار پر بھی غور و فکر کیا جائے تو قارئین پر واضح ہو جائے گا کہ ایک دوست کس طرح منتخب کیا جا سکتا ہے۔

اس مقدس تعریف کے مطابق دوستی کا انتخاب کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ کیا اس فرد نے آپ کے ساتھ کبھی سفر میں حصہ لیا ہے، کسی کاروبار میں شراکت کی یا پھر کبھی زندگی میں یہ شخص کسی کھانے میں آپ کے ساتھ شریک رہا تو اس نے اپنے علاوہ آپ کا خیال کتنا رکھا؟ اب یہ وہ صفات ہیں جو ایک دوست کا انتخاب کرنے سے پہلے انسان کو ہر معاشرے میں دیکھنا یا پڑتال کرنا لازمی ہے۔

سوشل میڈیا کی فیس بک دوستی جو کہ تصاویر سوشل میڈیا کی اعلیٰ انتظامیہ کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں اور چہرہ شناسی کے ذریعے ’’فیس بک‘‘ صارفین کی فکری شناخت کا امتحان لیا جاتا ہے، اس اقدام پر سخت نظر ثانی کی از حد ضرورت ہے کیونکہ اس جان، انجان (واقف، ناواقف) دوستی کے نتیجے میں ہمارے معاشرے میں آئے روز ناقابل بیان حد تک برے اثرات مشاہدے میں آرہے ہیں۔ اس لیے سوشل میڈیا کی اعلیٰ انتظامیہ کے سامنے دست بستہ درخواست کے طور پر یہ الفاظ حاضر ہیں کہ اس قسم کی دوستی کے طریقے پر نظر ثانی کرتے ہوئے جائزہ لیا جائے اور پھر ہر موبائل صارف کے حلقہ احباب یا رشتہ داران تک اس دوستی کے دائرے کو محدود کیا جائے۔

اطلاعات کے مطابق مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے اعتبار سے ہمارے وہ نوجوان جو بی ایس ’’ڈاٹا سائنس‘‘ کی ڈگری کا حامل ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں، اس سارے سلسلے کے عقب میں ان کی ذہنی کاوش کارفرما ہے کہ موبائل صارفین کی ذہن شناسی کے ذریعے ان کی فکری استعداد کے مطابق انجان دوستی کے احاطے میں لایا جائے۔

یہ کالم نگار یہ تجویز دینے کی قلمی جسارت کر رہا ہے کہ ڈاٹا سائنس کے ان عالم نوجوانوں کو ہمارے موبائل صارفین کے لیے یہ قضیہ پیدا نہیں کرنا چاہیے بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ دوستی کا مکمل حق موبائل صارفین کے حوالے کیا جائے کہ وہ خود اپنے احباب تک رسائی کرتے ہوئے دوستی کے لیے پیش کریں یا کسی دوستی کے طالب کی تفصیلی واقفیت کے بعد فیصلہ کر پائیں کہ وہ اسے اپنے دوستوں میں شامل کرنے کے خواہش مند ہیں بھی یا نہیں۔ اگر اس تجویز پر عمل در آمد ممکن ہو تو ’’فیس بک‘‘ کی دوستی ایک حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے جبکہ موجودہ صورت حال میں باقی بہت کچھ بحث کر دی گئی ہے، مزید شاید ضرورت سے زیادہ ہو جائے کہ یہ دوستی ایک افسانہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اس لیے اپنے قارئین کی توجہ کے لیے یہ سطور سپردِ قلم کی جا رہی ہیں کہ ’’شاید کسی کے دل میں اتر جائے میری بات‘‘ کی طرح شاید کچھ کو سمجھ آ سکے کہ دوستی قائم کرنے سے پہلے مطلوبہ دوست کے متعلق کن خوبیوں یا خامیوں کا علم ہونا چاہیے کہ اپنے دوستوں میں اس فردِ انجان کو شامل کیا جائے۔ صرف تصویر کوئی معیار دوستی نہیں ٹھہر سکتی، اس لیے سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔

اب ایک اور بات جو زیرِ بحث فیس بک کے حوالے سے ہے کہ فیس بک دوستی کے لیے پیش کردہ تصویر کے نیچے انگریزی الفاظ (Add Friend) لکھے جاتے ہیں جن کا لفظی ترجمہ اس طرح ہے کہ مدمقابل صارف کو کہا جاتا ہے کہ تصویر میں موجود فرد کو بھی اپنے دوستوں میں شامل کریں، یعنی ایک خواہش کا اظہار کیا جانا یا دوستی کی درخواست کا پیش کرنا۔

اب ہو کیا رہا ہے کہ جب ایک موبائل فیس بک صارف جس سے دوستی مطلوب ہوتی ہے ان الفاظ پر ’’کلک‘‘ کرتا ہے تو جواب آتا ہے کہ ’’دوستی کی درخواست ارسال کر دی گئی ہے‘‘ جو بالکل درست نہیں ہے کیونکہ جس صارف کو ایک تصویر کے ذریعے متوجہ کیا جاتا ہے کہ اپنے دوستوں میں شامل کرو تو پھر اس کی منظوری پر جواب اس طرح ہونا چاہیے کہ ’’مطلوبہ صارف نے آپ کو اپنے دوستوں میں شامل کر لیا ہے‘‘ جبکہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔

اردو زبان کا چہرہ تو پہلے ہی کافی حد تک مسخ کر دیا گیا ہے، اس لیے سوال بہت مشکل ہے۔ سوشل میڈیا انتظامیہ کو کچھ خیال کرنا چاہیے کہ سطور بالا میں جن انگریزی الفاظ کا ذکر کیا گیا ہے ان کے ترجمہ کے مطابق صارف کو جواب بھی ملنا چاہیے۔ پھر ہر جانے یا انجانے کی تصویر کو دوستی کے لیے پیش کر دینا کوئی معیاری عمل یا اقدام ٹھہرایا نہیں جا سکتا۔

یہاں ایک اور بات کہ لفظ (Confirm) فیس بک دوستی میں استعمال کیا جاتا ہے جس کا مطلب تو کچھ اس طرح ہے کہ تصویر میں موجود چہرہ اپنی دوستی کی منظوری کا طالب ہے، تو لفظ (Confirm) کلک کرنے پر بجائے دوستی کے طالب کے، مطلوبہ صارف کو اطلاع کی جاتی ہے کہ دوستی کی درخواست منظور کر لی گئی ہے، جو اردو کے اعتبار سے قطعاً درست نہیں کیونکہ لفظ Confirm لکھنے والا صارف دوستی کا طالب ہے، جبکہ اس کو کلک کرنے والا مطلوب ہے، اس لیے یہاں بھی بہت سی درستی کی ضرورت ہے، یعنی مطلوبہ صارف نے دوستی کی درخواست کو قبول کر لیا ہے۔

اس لیے انشاء اللہ یقین محکم ہے کہ اس کالم کی سطور کوئی نہ کوئی رنگ لازمی دکھائیں گی۔ امید واثق ہے کہ جو کچھ سطور مندرجہ بالا میں فیس بک کی دوستی کی حقیقت اور افسانوی حوالے سے وضاحت کی گئی ہے، ایک عام قاری بھی بہت آسانی سے سمجھ سکے گا۔

یہ سلسلہ دوستی جس میں نہ واقفیت نہ آشنائی ہے بلکہ ہماری ذہنی کیفیت کا امتحان لیا جا رہا ہے، اس کو دوستی کا روپ کسی صورت نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے سوشل میڈیا کے اس پروگرام کا از سرِ نو جائزہ لینا از حد لازمی ہے تاکہ آئے روز صارفین کی موبائل سکرینوں پر بلاوجہ کئی انجان اور جاننے والے چہروں کی قطاریں نہ بندھی ہوں۔ ہر موبائل صارف معاشرے کا ایک ذمہ دار شہری ہے اور سمجھ بوجھ رکھتا ہے۔

ان الفاظ کے ساتھ کالم کے اختتام کا مرحلہ طے کرنا چاہتا ہوں، بس اس توقع کے ساتھ کہ ہمارے 15 کروڑ میں سے موبائل صارفین کی معلومات میں تو اضافہ ہو گا لیکن فیس بک چلانے والوں کے لیے بھی بہت کچھ پیش کیا گیا ہے اور وہ بھی پیش کردہ تجاویز پر حتی الوسعیٰ نظر ثانی کر کے چنداں درستی کے لیے اپنا حصہ شامل کریں گے۔ زندہ یار صحبت باقی۔

 

 

تحریر: پروفیسر افتخار محمود
پڑوی درویزہ، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم
فون نمبر 03065430285 – 03015430285

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
31°C
Jhelum
clear sky
31° _ 31°
71%
2 km/h
پیر
40 °C
منگل
39 °C
بدھ
37 °C
جمعرات
35 °C
جمعہ
37 °C

تازہ ترین

جہلم میں شہدائے کربلا اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا
9 اگست, 2026
پی ڈی ایم اے نے مون سون کا 5 واں اسپیل شروع ہونے کی پیشگوئی کردی
9 اگست, 2026
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم سنگ میل ہے، چوہدری فرخ الطاف
9 اگست, 2026
جہلم میں کرپشن کے خلاف آگاہی واک، شفافیت اور دیانت داری کے فروغ کا عزم
9 اگست, 2026
جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کے خلاف کارروائیاں سخت، 100 سے زائد مشکوک گاڑیاں پکڑی گئیں
9 اگست, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

فواد چودھری؛ اب اور تب؟

20 نومبر, 2023

للِہ جہلم سڑک منصوبے کی تاخیر کا ذمہ دار کون؟ فنڈز ریلیز کروانے میں کس کا کتنا کردار؟

1 جنوری, 2025

قلزمِ فیوضات حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ

2 مارچ, 2025

ابوریحان بیرونی خوارزم تا پنڈدادنخان

14 مارچ, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں