رشتوں سے بندھی اس حیات میں، والدین کے بعد جس رشتے سے میں آشنا ہوا، وہ شیخ کا رشتہ تھا۔ میرے ابو جی (قاسمِ فیوضات، حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوانؒ) کے شیخ المکرم، قلزمِ فیوضات حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ۔
آپؒ ہمارے گھر کی ہر بات، ہر سوچ، ہر خیال کا محور و مرکز تھے۔ ابو جی کی حیاتِ مبارکہ میں حضرت قلزمِ فیوضات سے بڑھ کر کوئی تعلق اہم نہ تھا۔ ہم چھوٹے ہی تھے جب حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ ہمارے ہاں تین تین ماہ کے لیے تشریف لاتے۔ ہمارے گھر میں برکات کا سیلِ رواں یوں اُمڈ آتا کہ ہر لمحہ ایک رونق، ایک گہما گہمی کا احساس لیے ہوتا۔ والدہ محترمہ (امی جان) کے لیے اعلیٰ حضرتؒ کا ہر کام اپنے ہاتھوں سے کرنے کی لگن اور سرشاری انہیں مزید تازہ دم کر دیتی اور ابو جی اعلیٰ حضرتؒ کے ساتھ ساتھ ان کے لیے آنے والے مہمانوں کی مدارت میں سرگرم دکھائی دیتے۔ بچپن میں بھی اُس وقت میں گھر کی فضا میں رونق اور ٹھہراؤ کو واضح طور پر محسوس کرتا۔
آہستہ آہستہ مجھے حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ کی ذات ایک کوہِ فلک بوس محسوس ہونے لگی۔ وہ میانہ قد کے ہونے کے باوجود نہایت قد آور محسوس ہوتے۔ جلال و دبدبہ ان کی شخصیت کا حصہ تھا۔ ان کی نگاہوں کی تاب لانے کی مجال کسی میں نہ تھی، لیکن ان کی نرم گفتاری مجھے ان کے قریب لے جاتی۔
وہ حقیقتاً قلزمِ فیوضات تھے۔ زندگی کے حالات نے انہیں باقاعدہ تحصیلِ علم کی مہلت بیس بائیس سال کی عمر میں جا کر دی اور پھر آپؒ دشتِ علم کی تحصیل میں دس سال تک سرگرداں رہے۔ آپؒ نے فارسی تعلیم بھیرہ، صرف و نحو کی تراکیب کوٹ فتح خان، دورۂ حدیث ڈلوال (نزد کلرکہار) اور اعادہ دورۂ حدیث مدرسہ امینیہ دہلی میں مفتی کفایت اللہ صاحب سے کیا۔ بیضاوی، طحاوی شریف اور ہدایہ یہیں مکمل کیں۔ درسِ نظامی کے ساتھ ساتھ آپؒ نے عربی و فارسی کتب کی تکمیل کے لیے صرف و نحو، منطق، تفسیر، حدیث کے علاوہ ردِ فرقہ باطلہ اور فنِ مناظرہ میں کمال حاصل کیا۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں تحقیق و جستجو کا شوق خاص طور پر ودیعت فرما رکھا تھا۔ دین کے ظاہری علوم میں آپؒ اپنے اساتذہ سے علمی مباحث اور فکر و تدبر سے اوجِ کمال پر پہنچ گئے۔ بحرِ علومِ ظاہری کی شناوری میں مصروف تھے کہ اللہ کریم نے آپؒ کو علومِ باطنی کی نعمت سے نوازنے کے لیے خواجہ عبدالرحیمؒ کی خدمت میں پہنچا دیا۔ یہاں بھی سماعِ موتیٰ کے مسئلے پر حضرت عبدالرحیمؒ کے چوپال میں بیٹھے لوگوں سے فرمان…
”آپ لوگ کہتے ہیں مردے سنتے نہیں، میں آپ کو کیسے سمجھاؤں کہ وہ مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔ کی تحقیق پر امتحاناً ان کے ساتھ جانے والی ہستی ارادتاً ان کے قدموں میں بیٹھ گئی اور وہ حالتِ مراقبہ میں بے اختیار فرما گئے: ”جس کا انتظار تھا، وہ آ گئے۔
پھر تصوف کے زینے پر رکھا جانے والا یہ قدم انہیں مجددِ طریقت کے مقام پر لے گیا۔ آپؒ نے اس دورِ پرفتن میں، جب یا تو روحانیت کا انکار تھا یا نقل، اسے اس کی اصل کے ساتھ متعارف کرایا اور مخلوقِ خدا کو انتہائی سہل، سادہ اور خوبصورت انداز میں اس کی حقیقت سے آشنا کروا دیا۔ یوں کہ کوئی بھی، کسی بھی طبقہ اور مکتبہ فکر کا مرد و زن حاضرِ خدمت ہوا، وہ منازلِ سلوک، جن کا تذکرہ صاحبانِ سلوک کرتے ہوئے ہچکچاتے تھے، آپؒ نے ڈنکے کی چوٹ پر بیان فرمائیں اور آنے والے کو اس کی خلوصِ نیت کے مطابق وہاں تک پہنچایا بھی۔
یہاں تک کہ آپؒ کی مسجد میں پانی بھرنے والا شخص بھی فنا فی الرسول ﷺ تھا۔ اس دور میں جب سائنسی ترقی کا غوغا بلند ہو رہا تھا، آپؒ نے کتابوں میں درج روحانی حقائق عملاً کروا کر ان کا ثبوت دیا اور ثابت کیا کہ دماغ کی رسائی، ہنوز قلبی رسائی سے بہت پیچھے ہے۔ ذہنی طاقتیں، روحانی قوتوں کی خاک کو بھی نہیں پا سکتیں۔ آپؒ سے کرامات تو سرزد ہوئیں ہی، آپؒ نے کشف و وجدان بھی ثابت کر کے دکھائے۔ گویا آپؒ نے تصوف منوا کے دکھایا۔
آپؒ کی تحاریر ہوں یا تقاریر، مدلل، پُرمغز اور واضح طور پر تصوف کو دین کی روح ثابت کرتی ہیں۔ آپؒ کی ہر بات پُریقین اور ببانگِ دہل ہوا کرتی۔ کسی بھی باطل قوت میں یہ دم نہ تھا کہ وہ اس مردِ حق کے سامنے دم مار سکے۔ آپؒ نے بیسیوں کتب تصنیف فرمائیں۔ موضوعِ تصوف پر آپؒ کی شہرۂ آفاق کتاب ”دلائل السلوک” آج بھی تصوف سمجھنے کے شوق رکھنے والوں اور راہِ سلوک کے متلاشیوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
آپؒ تمام تر حیات، دینِ حق کی سربلندی کے لیے پابہ رکاب رہے۔ آپؒ کا سفر و حضر فقط اور فقط احیائے دین کے لیے تھا۔ آپؒ کی شب بیداریاں کبھی بھی دن کی سعیِ مسلسل پر اثر انداز نہ ہوتیں اور دن کی تھکاوٹیں، کبھی شب بیداریوں پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔ آپؒ کی حیات، مطالعہ، بیان، ذکر، مراقبات اور خالصتاً دین کے لیے اسفار سے عبارت رہی۔
قارئینِ کرام! یہ سطور لکھتے ہوئے میں یوں بھی دیدۂ پرنم لیے ہوں کہ اللہ کی راہ میں جاگنے اور دین کی بلندی کے لیے تحقیق و جستجو میں مگن رہنے والی نگاہیں جب ہمارے ہاں آتیں، تو مجھے نہایت محبت سے تکا کرتی تھیں۔ دینی حقائق کو کھول کر بیان کرنے والے قلم کو تھامنے والے ہاتھ مجھے انتہائی شفقت سے چھوا کرتے اور وہ دامن جس نے ایک جہان میں گوہر باری کی، مجھے اپنے اندر سمیٹا کرتا تھا۔
میری انتہائی خوش بختی کہ میرا نام بھی انہوں نے ہی رکھا۔ میرے قلب و ذہن میں آج بھی وہ یادیں درخشاں ہیں۔ آموں کے موسم میں جب بھی میں ان کے پاس جاتا، وہ ملک احمد نواز صاحب کو پکارتے: ”احمد نواز، ملک آیا اے۔ امب دیووئی ملکے نوں (ملک آیا ہے، بھئی ملک کو آم دیں)
میری والدہ بتاتی ہیں کہ شیرخوارگی میں، ایک دن میں بہت رو رہا تھا۔ انہوں نے حضرت جیؒ سے عرض کی: ”اسے دَم کر دیں۔ انہوں نے دم فرمانے کے بعد فرمایا: ”اسے اکرم سے دم کرواتی رہا کرو۔ انہوں نے سادگی سے عرض کیا: ”وہ میرے ہاتھ ہی نہیں آتے۔ فرمانے لگے: ”آؤ، میں اپنی بیٹی کو دم بتاتا ہوں، تم خود کر لیا کرنا۔ یوں انہیں دم سکھایا۔
18 فروری 1984 کا وہ لمحہ مجھے آج بھی یاد ہے، جب رضائے الہٰی نے مجھے ایک شیخ کے پہلو سے اٹھا کر دوسرے شیخ کے سینے سے لگا دیا۔ اس وقت ابو جی کے قلب پر جو درد اُترا، وہ آج خود شیخ بننے کے بعد میرے دل میں یوں اتر رہا ہے کہ ہر ماہ فروری میں اپنے قلب کی گہرائی کا اندازہ نئے سرے سے ہوتا ہے۔


