پنڈدادنخان: سیکرٹری صحت و پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی ہدایات پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر انجم قدیر نے رات 8 بجے گاؤں بھیلووال میں واقع الرشید میڈیکوز پر اچانک چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے مبینہ جعلی میڈیکل پریکٹس کا انکشاف کیا ہے۔
کارروائی کے دوران احسان رشید نامی شخص مریضوں کا معائنہ اور علاج کرتے پایا گیا۔ محکمہ صحت کی ٹیم نے موقع پر موجود سرگرمیوں کی ویڈیو اور تصاویر بھی حاصل کر لیں۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ شخص متعلقہ علاقے کا رہائشی نہیں بلکہ دوسرے ضلع سے تعلق رکھتا ہے۔
چھاپے کے دوران موقع سے الیکٹرک ہیڈ مساج چیئر، بلڈ پریشر سیٹ، پلس آکسی میٹر، گلوکومیٹر اور دیگر طبی آلات برآمد کیے گئے۔ علاوہ ازیں ایک ریفریجریٹر بھی پایا گیا جو ادویات کی تقسیم کے لیے استعمال ہونے والے لفافوں سے بھرا ہوا تھا، تاہم ادویات کے محفوظ رکھنے کے لیے مطلوبہ درجہ حرارت برقرار نہیں رکھا جا رہا تھا۔
محکمہ صحت کی ٹیم کو موقع پر استعمال شدہ سرنجیں، خالی شیشیاں اور مختلف اقسام کے سٹیرائڈز بھی ملے، جس پر مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق میڈیکل سنٹر چلانے والے شخص نے اعتراف کیا کہ مذکورہ میڈیکل سٹور کو ماضی میں بھی اسی نوعیت کے جرم پر دو مرتبہ سیل کیا جا چکا ہے۔
ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے کارروائی کے بعد الرشید میڈیکوز کو فوری طور پر سیل کر دیا جبکہ کیس مزید کارروائی کے لیے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن لاہور بھجوا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میڈیکل سٹور کے لائسنس کی مستقل منسوخی کی سفارش بھی پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو ارسال کر دی گئی ہے۔
ڈاکٹر انجم قدیر نے اس موقع پر کہا کہ عطائیت انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جعلی ڈاکٹروں اور غیر قانونی کلینکس کی نشاندہی کریں تاکہ انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عطائیت کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور ہر خلاف ورزی پر فوری اور سخت ایکشن لیا جائے گا۔
عوامی حلقوں نے محکمہ صحت کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی میڈیکل پریکٹس اور جعلی معالجین کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے تاکہ شہریوں کو محفوظ اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔


