ہجوم سے ہاتھ ہو گیا

موجودہ ملکی صورتحال میں جہاں لیول پلینگ فیلڈ کا قتل عام کرنے کے بعد ہر طرح سے راہیں ہموار کر کے دی گئیں تو لوگوں کو صرف اس کا بدلہ لینے کے لیے ایک ہی بات کرتے دیکھا گیا کہ وہ ٹرن آؤٹ زیادہ سے زیادہ کریں گے تاکہ ہر سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔

بطور صحافی جب سروے میں عوام سے رائے لی گئی تو معلوم ہوا کہ بہت سے لوگ اس نظام کے خاتمے اور تبدیلی کے لیے اس بار ووٹ زیادہ ڈالے گے لیکن سروے کے بعد جب تحقیق کی تو معلوم ہوا ہے کہ جہاں سے پلاننگ ہوتی ہے وہ عوام کی سوچ سے دو قدم آگے کی پلاننگ کرتے ہیں۔

لوگوں کو اس شک و شبہ میں ڈال دیا گیا کہ الیکشن نہیں ہونگے اور اگر دیکھا جائے تو بہت بڑے بڑے دانشور وکلاء ڈاکٹرز پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھنے والوں سمیت بڑے بڑے اینکرز تجزیہ کار اور سیاستدان یہ راگ الاپتے رہے کہ الیکشن نہیں ہونگے اور یہاں سے گیم شروع ہوئی اور ٹرن آؤٹ کو کم کرنے اور مخصوص جماعت کے لیے تمام راہیں ہموار کرنے کے بعد جو اصل گیم ڈالی گئی وہ تھی ووٹرز کے پولنگ اسٹیشن کی تبدیلی، اب تک سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد سامنے آ چکی ہے جنہوں نے جب اپنی ووٹ کے لیے 8300 پر میسج کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ ڈومیلی والوں کی سوہاوہ، سوہاوہ والوں کی دینہ میں ووٹ کاسٹ ہو گی ایسی صورت میں امیدوار کیسے ووٹرز کو اس طرح کے پولنگ اسٹیشن پر لے کر جائے گا۔

پھر ایک گیم اور سامنے آئی کہ اگر گھر کے پانچ مرد اور چار خواتین ہیں تو ایک مرد کی ڈومیلی، دو خواتین کی دینہ اور باقی سوہاوہ کے مختلف پولنگ اسٹیشن پر ووٹ کاسٹ کریں گے ۔ اب ہو گا کیا اول تو صحافیوں کو اس قدر حراساں کیا جا چکا ہے کہ کوئی سچ لکھنے کو تیار نہیں، بد قسمتی سے ہمارے ملک میں صحافت رہی ہی کہاں ہے؟۔

چینل پر بیٹھے تجزیہ کار جماعتوں کے نظریہ کا تحفظ کرتے ہیں، مقامی صحافیوں میں اکثریت کے پاس یا تو نیشنل چینل یا اخبار نہیں یا پھر وہ چند ہزار دے کر صحافی بن گئے ہیں اور سوشل میڈیا واٹس ایپ فیس بک ہی ان کا صحافتی پلیٹ فارم ہے۔ جہاں نہ کوئی آپ کی پوسٹ کو تصیح کرنے والا ہے، نہ املاء کی غلطی نکالنے والا، نہ کوئی صحافتی اصول بتانے والا اور اگر کوئی جرات کرے اور اس کو اس ہجوم کے تحفظ کا کیڑا تنگ کرتے تو اس کو اپنے ہی قریبی حلقوں میں مفاد پرست اس قدر مایوس کر دیتے ہیں کہ اس کا کیڑا بھی خون کی کمی کا شکار ہو کر کمزور اور لاغر ہو جاتا ہے ۔

بہرحال کوئی حق سچ لکھنے بولنے والا یہ چیخ چیخ کر بتا بھی دیگا تو کیا ہو گا؟ جب آپ اپنے ضمیر کا سودا کر لیں تو پھر آپ کو ہر چیز جائز لگتی ہے۔ یہ سب اچانک نہیں ہوتا ہجوم کو اس الجھن میں ڈال کر کہ الیکشن نہیں ہونگے ووٹرز کو تقسیم کر دیا گیا ۔

گزشتہ دنوں کچھ ذرائع سے معلوم ہوا کہ الیکشن ڈیوٹیز دینے والوں سے حلف لیا گیا کہ آپ ریاست کے ملازم ہیں اور آئین و قانون اور شاہد شریعت کا سہارہ لیتے ہوئے ان کو اس بات کا پابند بنوایا گیا کہ ریاست کی باتیں ریاست کا حکم آپ پر فرض ہے اور یہ فرض نبھانے میں کوتاہی کرنے کرے گا تو دوزخ کا عذاب یاد کروایا گیا ۔

یہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے اور اکثر و بیشتر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات سیاق و سباق سے ہٹ جاتی ہے۔ بہرحال جو بھی ہے جیسے بھی ہے ایک بات تو ہے کہ سب کو اپنے اپنے حصے کا فرض ادا کرنے کا پابند بنایا گیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔رزلٹ ووٹرز کی چوائس کے برعکس ہو یا عین مطابق ہم وہ ہجوم ہیں جو اپنے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے ماضی بھولنے کا ہنر رکھتے ہیں ۔

ووٹرز کی ووٹ کوسوں دور ہو یا تمام مشینری آپ کے ساتھ ہو جو بھی ہونا ہے وہ اس مالک کائنات کے حکم سے ہونا ہے جس کو بھی عزت ملنی ہے اس کو مل کر رہے گی کل حساب دینے کا وہ پابند ہے بروز حشر سب سے اپنے اپنے حصے کا حساب ہو گا۔ جس کے مطابق جزا و سزا ہو گی وہاں عدل ہوتا ہے اور ہو کر رہے گا۔

دعا ہے کہ اللہ پاک ہمارے ملک پاکستان پر ہمارے اعمال کے برعکس حکمران عطا کرے اور اپنے رحمت کے سائے میں ہمارے ملک پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے ۔آمین ثم آمین

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button