جہلم: 128 کلو میٹر لمبی سٹرک پردھول مٹی نے آلودگی میں اضافہ کر دیا۔ سڑک کے دونوں اطراف درخت نہ ہونے سے ماحولیاتی آلودگی پھیلنے لگی ۔ مکین دمے ، ٹی بی ، سانس ، آشوبِ چشم سمیت مہلک امراض میں مبتلا ہونے لگے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم تا لِلہ 128 کلو میٹر سڑک گڑھوں میں تبدیل ہونے کی وجہ سے سڑک سے اٹھنے والی دھول مٹی نے ماحولیاتی آلودگی میں غیر معمولی اضافہ کردیاہے۔ سڑک سے اٹھنے والی دھول مٹی سے سڑک کے دونوں اطراف رہائشی دمے ،سانس، آشوب چشم سمیت دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں جبکہ سڑک کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے تحصیل جہلم اورتحصیل پنڈدادنخان کے مکینوں کی نئی گاڑیاں کھٹارہ بنتی جارہی ہیں۔
سروے میں علاقہ مکینوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ بخاری چوک تا لِلہ ڈیول کیرج وے 128 کلو میٹر سٹرک کے دونوں اطراف سڑک کی تعمیر سے قبل محکمہ جنگلات نے درخت کٹوا دیئے تھے، درخت نہ ہونے کی وجہ سے دھول مٹی مکینوں کے گھروں میں داخل ہو کر بیماریوں کا باعث بن رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں چھوٹی بڑی گاڑیاں جن میں ٹر ک وغیرہ بھی شامل ہیں سڑک سے گزرتے ہوئے ماحول کو دھواں دھاراور آلودہ کر رہے ہیں جس سے جہلم تا لِلہ ڈیول کیرج وے کے گردونواح کی آبادیاں شدید متاثر ہورہی ہیں۔ بچے ، بوڑھے، جوان اور خواتین دمے، ٹی بی اور کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں ، آبادی میں اضافے کے سبب گاڑیوں کی تعداد میں بھی دن بہ دن اضافہ ہو تا جارہاہے جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے چیف آف آرمی سٹاف، چیف جسٹس آف پاکستان اور نگران وزیراعظم پاکستان جہلم تا لِلہ ڈیول کیرج وے کے فنڈز جاری کرنے کے احکامات جاری کریں اور سڑک کے دونوں اطراف سایہ دار ، پھولدار، پھلدار پودے لگوائیں تاکہ شہریوں کو موذی امراض سے بچایا جا سکے ۔ زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لئے درخت لگاؤ مہم کا آغاز جلد از جلد کر دیا جائے تا کہ ہماری آنے والی نسلیں آلودگی سے پاک زندگی گزار سکیں۔


