دینہ کے نواحی علاقہ میں شراب کے نشے میں دھت اوباش افراد کی گھر میں گھس کر ماں باپ کے سامنے 18 سالہ بیٹی سے زیادتی کی کوشش، مزاحمت پر ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کی تحصیل دینہ کے تھانہ منگلا کینٹ کی حدود دھنیالہ گاؤں میں رات گئے دو مسلح افراد مبینہ طور پر زبردستی گھر میں داخل ہو گئے اور اہل خانہ کو یرغمال بنا کر 18 سالہ لڑکی سے زیادتی کی کوشش کی جبکہ مزاحمت پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔
پولیس کو دی گئی درخواست کے مطابق متاثرہ خاتون ساحرہ بانو نے موقف اختیار کیا کہ رات تقریباً ڈیڑھ بجے دو نوجوان زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوئے، جن میں سے ایک کے پاس پستول جبکہ دوسرے کے ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی۔
درخواست کے مطابق ملزمان نے گھر والوں کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بنایا اور گھر کے سربراہ ناصر پر پستول تان کر انہیں الگ لے جانے کی کوشش کی۔
اسی دوران 18 سالہ لڑکی (ن) کمرے سے باہر نکلی تو ایک ملزم نے اس کی کنپٹی پر پستول رکھ کر مبینہ طور پر اسے زبردستی واش روم کی طرف گھسیٹا اور زیادتی کی کوشش کرتے ہوئے اس کے کپڑے پھاڑ دیے۔
اہل خانہ کے شور و واویلا پر ملزم نے خوف و ہراس پھیلانے کیلئے فائرنگ بھی کی، تاہم گولی برآمدے کے ستون پر لگی اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ شور سن کر اہل محلہ جمع ہونا شروع ہو گئے تو دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔
درخواست گزار کے مطابق فرار ہونے والے ملزمان میں ایک کی شناخت عزیر ولد جمیل برگٹ سکنہ دھنیالہ کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دوسرا نامعلوم بتایا گیا ہے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق ملزمان فرار ہوتے ہوئے پستول کی میگزین اور اپنا ایک جوتا بھی موقع پر چھوڑ گئے۔
پولیس کے مطابق درخواست موصول ہونے پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ایس ایچ او تھانہ منگلا کینٹ کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔


