صوبہ پنجاب میں محکمہ تعلیم سالوں سے تجربات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور اس میں نئے نئے تجربات اور اصلاحات آئے دن دیکھنے میں آئے ہیں ۔ گزشتہ روز صبح نو سکول کے نام سے حکومت پنجاب کی طرف سے ایک احسن اقدام دیکھنے میں آیا ۔ اگرچہ یہ خوش آئند قدم ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ معیار تعلیم کو بہتر بنایا جائے اور پہلے سے موجود سرکاری سکولز ، کا لجز کی حالت زار کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔
حالیہ سروے کے مطابق پنجاب کے متعدد ہائی سکولز اور کالجز میں سٹاف کی50 فیصد کمی ہے۔ نیز فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ اس ضمن میں کچھ ایسے ادارے بھی دیکھنے میں آئے جو اپنی مدد آپ اور مخیر حضرات کی مہربانی سے چل رہے ہیں اور اپنی جملہ ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔کئی تعلیمی اداروں میں تو عملے کو تنخواہیں کتنے مہینوں کے بعد ملتی ہیں، ایسے حالات میں ایک استاد کس طرح یکسوئی اور دلجمعی کا ثبوت دے سکتا ہے۔ نتیجتاً طالب علم عدم توجہی کا شکار ہو رہے ہیں جس کا جیتا جاگتا ثبوت نہم کا حالیہ بورڈ کا رزلٹ ہے جو یقیناً اہل فکر کے لئے لمحہ فکر یہ ہے۔
اس ضمن میں ضروری ہے کہ کہنہ مشق اساتذہ بھرتی کئے جائیں۔ یورپی ممالک میں سب سے کڑا امتحان ٹیچرز کا ہوتا ہے۔ پاکستان میں خصوصاً پنجاب میں زیادہ تر آبادی دیہات میں رہتی ہے۔ زیادہ تر دیہات شہری آبادی سے زیادہ دور ہونے کی وجہ سے بیشتر بچے زیور تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے دیہاتی علاقوں میں قابل اساتذہ تعینات کئے جائیں اور انہیں خاطر خواہ سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ ملک کی اکثریت آبادی کو زیور تعلیم سے آراستہ کر کے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ حکومت پنجاب نے آفٹر نون سکولز بھی کھولے۔ انہیں بھی منظم اور زیادہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح فنی تعلیم جس کی زندگی کے تمام شعبہ ہائے جات میں ضرورت ہے کو بھی مزید بہتر بنانے اور سہولیات سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے۔
اس ضمن میں ہنرمند اساتذہ کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔ ہمارے ملک میں استاد طبقہ کئی مسائل سے دو چار ہے ۔ جو ان کی اپنی شعبے میں توجہ کو متاثر کرتا ہے۔ آئے دن اساتذہ کو مختلف قسم کی ڈیوٹیز میں مصروف کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً مردم شماری، رمضان بازاروں میں ڈیوٹیاں، سیلاب یا ملکی مسائل کے دوران ڈیوٹیاں، الیکشن اور بورڈ کے امتحانات میں ڈیوٹیاں، جن کی وجہ سے اساتدہ اصلی مقصد سے ہٹتے چلے جا رہے ہیں، ان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے معیار تعلیم بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔
اس ضمن میں سیاسی دباؤ بھی اساتدہ میں ذہنی انتشار کا سبب بنتا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ اگر ہم من حیث القوم اپنے ملک میں انقلاب لانا چاہتے ہیں اور ایسے ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد کو تیار کرنا چاہتے ہیں جو حقیقتاً مستقبل میں پاکستان کو تابناک ماحول دے سکیں اور موجودہ بھنور سے قوم کو نکال سکیں تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو صحت مند بنیادوں پر استوار کرنا ہو گا۔ اساتذہ اور طلباء کو ایسا صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہو گا جس میں رہ کر وہ حصول تعلیم کے لیے صحیح معنوں میں کوشوں ہو سکیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔


