ریاست کسی بھی ملک کی عوام کے لیے ماں کا درجہ رکھتی ہے اور یہ اٹل حقیقت ہے کہ دنیا میں ماں سے بڑھ کر چاہنے والا اور بھلا سوچنے والا اور کوئی نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں ماں کا ہر عمل اولاد کی فلاح کے لیے ہوتا ہے۔ اب اسے وقت کی ستم ظریفی کہیں یا حکومتی غفلت کہ ریاست اپنے ہاتھوں سے اپنی اولاد (عوام) کے لیے مسائل کا انبار کھڑا کر رہی ہے۔
یہاں میری مراد حالیہ تجاوزات کے خلاف حکومتی آپریشن سے ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں ریاست ایسے اقدامات کرے جن سے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی اور دیگر بنیادی ضروریات کا حصول آسان ہو سکے، مگر اصل حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
ہم یہاں ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے خلاف بات نہیں کر رہے بلکہ صرف اتنا مطالبہ کرتے ہیں کہ جن غریب عوام کو سابقہ حکومتوں نے دیہاڑی لگانے کے لیے جگہ دی اور ساتھ مخصوص رقم بھی ان سے ہر ماہ کرایہ کی مد میں وصول کی جاتی رہی، اب اچانک آپریشن تجاوزات کے نام پر ان سے روزگار کا واحد ذریعہ بھی بے دردی سے چھینا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت وقت سے یہ گزارش ہے کہ وہ اس معاملے پر نظر ثانی کرے۔
ریاست جسے ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے، توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کا خیال رکھے، پھر بھی تجاوزات کے خلاف حالیہ حکومتی اقدامات غریبوں کی روزی روٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ غیر قانونی تجاوزات پر توجہ دی جانی چاہیے مگر اچانک کریک ڈاؤن ان کارکنوں کو بے گھر کر رہا ہے جو حکومت کی طرف سے پہلے کرائے پر دی گئی جگہوں پر انحصار کرتے تھے۔
یہ اقدامات مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کے بجائے عام شہریوں کی جدوجہد کو مزید خراب کرتے ہیں۔ نفاذ میں منصفانہ اور مستقل مزاجی کا فقدان ہے، کیونکہ بعض خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے جبکہ دیگر کو من مانی طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے، جو انتظامی نااہلی اور سیاسی تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔
آپریشن سے نہ صرف غریبوں کا ذریعہ معاش تباہ ہوتا ہے بلکہ میونسپل آمدنی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ حکام پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ انصاف، ہمدردی اور جوابدہی کے ساتھ کام کریں، بنیادی حقوق اور نفاذ میں انصاف کو یقینی بنائیں۔
ہر پانچ سال بعد ہونے والے الیکشن میں عوام بڑی امیدوں کے ساتھ اپنے نمائندے چنتے ہیں جو اُن کے دیرینہ مسائل کو حل کر سکیں اور اُن کی زندگیوں کی تلخیوں کو کم کرکے ان کے لیے جینا آسان کر دیں۔ لیکن جب یہی لوگ غریب عوام کے دیئے گئے ووٹوں کی وجہ سے منتخب ہو کر حکومت میں آتے ہیں، تو غریب عوام کے مسائل کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔
آخر میں متعلقہ اداروں میں بیٹھے افسران سے مودبانہ گزارش ہے کہ منسٹر، ایم این اے، ایم پی اے اور بااثر افراد کی پرچی میں لوگوں کے لیے جائز و ناجائز کام کرنے سے بہتر ہے کہ ان بندوں سے ڈریں جن کے ہاتھ میں صرف اور صرف اللہ کی پرچی ہے، جو یقیناً ساتویں آسمان تک جاتی ہے۔
عرض صرف اتنی ہے کہ مظلوم سے اس کے جائز حق نہ چھینیں اور ہو سکے تو مخلوق خدا کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، پاکستان زندہ باد!


