جہلم کی سیاست ان دنوں کسی سنجیدہ شطرنج کے کھیل کے بجائے گلی ڈنڈا بنتی جا رہی ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ گلی ڈنڈا بچے کھیلتے ہیں اور یہاں “بڑے کھلاڑی” کھیل رہے ہیں، وہ بھی ایسے چھوٹے ہتھیاروں کے ساتھ کہ دیکھنے والا سوچ میں پڑ جائے کہ یہ سیاست ہے یا محلہ کمیٹی کی سالانہ لڑائی۔
ضلع کی سیاست میں جن شخصیات کو نظریات کے مینار اور تدبر کے قلعے سمجھا جاتا تھا، وہ اب فیس بک اسٹیٹس، واٹس ایپ فارورڈز اور کارکنوں کی زبانی گولیوں سے ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کسی کے پاس الزام ہے، کسی کے پاس وضاحت، اور کسی کے پاس صرف پرانی تصویر جس پر “اصل چہرہ” لکھ کر پوسٹ کرنا باقی رہ گیا ہے۔
ضلعی رہنماؤں کی یہ چپقلش کارکنوں کے لیے تشویش کا باعث اس لیے بھی ہے کہ کارکن بیچارے تذبذب کا شکار ہیں۔ کل تک جن کے نعرے لگاتے تھے، آج انہی کے خلاف نعرہ لگانے کی تیاری کروائی جا رہی ہے۔ کارکن سوچ رہا ہے کہ اگر دونوں لیڈر ٹھیک ہیں تو غلط کون ہے؟ اور اگر دونوں غلط ہیں تو پھر ہم کس بات کے ٹھیکیدار بنے پھر رہے ہیں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر رہنما خود کو “نظریاتی” کہتا ہے، مگر نظریہ اتنا نازک ہے کہ ذرا سی کرسی کی کھڑکھڑاہٹ پر لرزنے لگتا ہے۔ اصولوں کی بات کی جاتی ہے، مگر اصول وہی معتبر ہوتے ہیں جو اپنے حق میں ہوں۔ باقی سب “سازش” کہلاتے ہیں۔
جہلم کی سیاست میں یہ بھی ایک نیا رواج پڑ گیا ہے کہ بات مسئلے کی نہیں، شخصیت کی ہوتی ہے۔
کارکن اب سیاست نہیں سیکھ رہا، بلکہ یہ سیکھ رہا ہے کہ کس وقت خاموش رہنا ہے، کس وقت تالی بجانی ہے اور کس وقت “ہم آپ کے ساتھ ہیں” لکھ کر پوسٹ شیئر کرنی ہے۔ نظریاتی تربیت کی جگہ اب ڈیجیٹل وفاداری نے لے لی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ اگر یہی روش رہی تو بڑے کھلاڑیوں کے ہاتھ میں بڑے ہتھیار نہیں آئیں گے، کیونکہ جو قوم اپنے لیڈروں کو چھوٹے ہتھکنڈوں پر اترتے دیکھ لے، وہ انہیں بڑے فیصلوں کے قابل سمجھنا بھی چھوڑ دیتی ہے۔
جہلم کی سیاست کو اس وقت ہتھیار بدلنے کی نہیں، رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ تاریخ یہ نہیں لکھے گی کہ فلاں رہنما جیت گیا، بلکہ یہ لکھے گی کہ سب ہار گئے اور کارکن ہمیشہ کی طرح صرف نعرے لگاتا رہ گیا۔


