جہلم: جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مہتمم اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نائب امیر حافظ عبدالحمید عامر نے کہا ہے کہ حرمِ کعبہ کے مقدس جوار میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین ہونے والا حالیہ دفاعی معاہدہ اخوتِ اسلامی کا بے مثال مظہر، امتِ مسلمہ کے تابناک مستقبل کا ضامن اور اتحادِ امت کی جانب ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔
اپنے ایک اخباری بیان میں حافظ عبدالحمید عامر نے کہا کہ یہ دور رس اور جرأت مندانہ اقدام مسلم اُمہ کی سیکیورٹی اور خودمختاری کے لیے ایک ناقابلِ تسخیر حصار ثابت ہوگا۔ اس معاہدے کے ذریعے عالمِ اسلام کو فکری اور عسکری جمود سے نکال کر نئی آفاقی جہتوں کی طرف گامزن کرنے اور عالمی منظرنامے میں طاقت کے توازن پر مثبت اثرات مرتب کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
انہوں نے معاصر عالمی سیاست کے پُرآشوب منظرنامے اور ملتِ اسلامیہ کو درپیش مختلف سنگین چیلنجز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت باطل اور استعماری قوتیں مسلمانوں کے وسائل پر قابض ہونے اور ان پر سیاسی و تہذیبی تسلط قائم کرنے کے لیے مختلف محاذوں پر سازشیں کر رہی ہیں۔
حافظ عبدالحمید عامر نے کہا کہ مسلکی تفریق اور داخلی انتشار کے موجودہ دور میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین تزویراتی اور دفاعی تعاون امتِ مسلمہ کے لیے امید کی ایک نئی کرن اور انتہائی خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی خطے میں امن، استحکام اور خودمختاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے امامِ کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس کے معاہدے کے حوالے سے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حرمِ کعبہ کے مقدس اور بابرکت ماحول میں اس نوعیت کے اہم معاہدے کا طے پانا اس کی خصوصی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
حافظ عبدالحمید عامر نے کہا کہ حالیہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات میں پاکستان کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سہ فریقی دفاعی تعاون سے جہاں عالمِ اسلام کو استحکام حاصل ہوگا، وہیں پاکستان کی قومی سلامتی اور ملکی سرحدوں کے دفاع کو بھی مزید تقویت ملے گی۔
حافظ عبدالحمید عامر نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور سپہ سالارِ پاکستان جنرل سید عاصم منیر کی اس معاہدے کے حوالے سے کاوشوں اور تزویراتی بصیرت کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور معاہدے کی کامیابی پر پوری پاکستانی قوم اور ملتِ اسلامیہ کو مبارکباد دی۔


