ضلع جہلم ایک تاریخی اور ثقافتی ورثے کا حامل علاقہ ہے، جو اپنے قدرتی حسن اور محنتی عوام کے لیے مشہور ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں یہ ضلع ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف ضلعی انتظامیہ اور حکومتی نمائندگان سب اچھا کا راگ الاپ رہے ہیں، تو دوسری طرف عوام کے مسائل اور محرومیوں کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر انتظامیہ دودھ کی نہریں بہا رہی ہے، امن کی فاختہ گیت گا رہی ہے، اور مسائل دہلیز پر حل ہو رہے ہیں، تو عوام کن باتوں پر ماتم کناں ہیں؟
ڈی سی صاحب سے لے کر ہر محکمہ کے سربراہ کی باتوں میں ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے: "سب اچھا ہے۔” ان کے مطابق جہلم میں ترقیاتی کام عروج پر ہیں، صفائی کا نظام بہترین ہے، صحت کی سہولیات شاندار ہیں، اور تعلیمی ادارے مثالی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دعوے عوام کی روزمرہ زندگی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ سڑکوں کی خستہ حالی، گندگی کے ڈھیر، ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی، اور تعلیمی اداروں میں وسائل کا فقدان یہ سب کچھ عوام کی حالتِ زار کا آئینہ ہیں۔
امن کی فاختہ یا خوف کی چپ؟
ڈی پی او صاحب کے مطابق ضلع میں امن و امان کی صورتحال مثالی ہے۔ جرائم پر قابو پا لیا گیا ہے، اور عوام سکون سے اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ لیکن زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔ چوری، ڈکیتی، اور دیگر جرائم کی شکایات عوام کے دلوں میں خوف پیدا کر رہی ہیں۔ پولیس کے پاس مسائل حل کرنے کے بجائے شکایات کو نظر انداز کرنے کی پالیسی عام ہوتی جا رہی ہے۔ اگر واقعی امن و امان کی صورتحال مثالی ہے تو پھر عوامی تحفظ کے سوالات کیوں بڑھ رہے ہیں؟
عوامی نمائندگان کا دعویٰ ہے کہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو رہے ہیں۔ یہ بات سننے میں تو بہت دلکش لگتی ہے، لیکن حقیقت میں عوام سرکاری دفاتر کے چکر کاٹتے نظر آتے ہیں۔ پینے کے صاف پانی کی کمی، صحت کی سہولیات کا فقدان، اور بے روزگاری جیسے مسائل عوام کو بے حال کیے ہوئے ہیں۔ اگر واقعی عوام کے مسائل حل ہو رہے ہیں، تو پھر غریب کا علاج کیوں ممکن نہیں، نوجوانوں کو نوکریاں کیوں نہیں مل رہیں، اور کسان اپنی فصلوں کی قیمت کے لیے پریشان کیوں ہیں؟
عوامی سطح پر صورتحال مختلف ہے۔ لوگ بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں۔ پینے کا صاف پانی نہ ملنے کی شکایتیں عام ہیں، لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بل عوام کے لیے عذاب بن چکے ہیں، اور مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ یہ سب مسائل اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انتظامیہ اور نمائندگان کی "سب اچھا” کی رٹ محض ایک سرکاری فسانہ ہے۔
جہلم ایک خوبصورت ضلع ہے، جس کی ترقی اور خوشحالی ممکن ہے، لیکن اس کے لیے حقیقت پسندی اور ایمانداری کی ضرورت ہے۔ سرکاری طبلہ نوازی اور سب اچھا کے راگ سے عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جا سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ اور نمائندگان حقیقی مسائل کو سمجھیں، ان کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کریں، اور عوام کو اپنی کارکردگی سے مطمئن کریں، نہ کہ سرکاری بیانیے سے۔ عوام کی خدمت ہی اصل کامیابی ہے، نہ کہ محض دعوے اور تقریریں۔


