جہلم: محکمہ لیبر کے ذمہ داران محنت کشوں کو اجرت دلوانے میں ناکام، مالکان محنت کشوں کو آٹے میں نمک برابر اجرت ادا کرتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شہر سمیت ضلع بھر میں کام کرنے والے محنت کشوں نے الزام عائد کیا ہے کہ صوبہ بھر میں مزدوروں کی اجرت 32ہزار مقرر ہے اور محکمہ لیبر کے ضلعی و ڈویژنل افسران مالکان سے محنت کشوں کو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ اجرت دلوا رہے ہیں۔
ضلع جہلم اور راولپنڈی ڈویژن میں محکمہ لیبر کے افسران حکومت کی طرف سے مقرر کردہ اجرت دلوانے کی بجائے مالکان سے خود معاملات طے کر کے سب اچھا ہے کر رہے ہیں ،جس کی وجہ سے شہر سمیت ضلع بھر میں محنت کشوں سے 12/14گھنٹے مشقت لی جاتی ہے اور اجرت آٹے میں نمک کے برابر ادا کی جاتی ہے۔
محنت کشوں نے نام ظا ہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ محکمہ لیبر کے متعلقہ افسران مالکان کے ساتھ ہر ماہ کی پہلی تاریخوں میں ملاقاتیں کرتے ہیں،اس کے بعد سب اچھا ہے کی رپورٹ بجھوا دیتے ہیں،جو کہ حقیقت کے برعکس ہے ،اگر کوئی مزدور لیبر ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کرے تو لیبر ڈیپارٹمنٹ والے محنت کش کے مالکان کو فون کرکے اطلاع کر دیتے ہیں،اس طرح محنت کش کاوہ آخری دن تصور کیا جاتا ہے اور کام سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔
محنت کشوں کا کہنا ہے کہ ضلع جہلم میں ہزاروں ،لاکھوں کی تعداد میں پڑھے لکھے نوجوان نجی فیکٹریوں ،کاروباری مراکز ،دکانوں ،پلازوں شادی ہالز میں کام کر رہے ہیں ،کوئی بھی مالک حکومت کی مقرر کردہ اجرت ادا کرنے کو تیار نہیں، جس کی بنیادی وجہ محکمہ لیبر کے متعلقہ افسران کی سرپرستی ہے۔
محنت کشوں نے نگران وزیر اعلی پنجاب اور سیکرٹری لیبر سے نوٹس لینے اور فرض شناس ایماندار افسران و عملہ تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محنت کشوں کے گھروں میں بھی خوشحالی آسکے۔


