جہلم کا ڈیول کیرج وے (للِہ جہلم دو رویہ سڑک) منصوبہ جو چار سال پہلے امید کی کرن کے ساتھ شروع ہوا تھا، اب ایک بھیانک خواب بن چکا ہے۔ اس منصوبے کی ناکامی نے مقامی مکینوں کی زندگیوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ مصری موڑ تا للِہ روڈ، جو کئی اضلاع کو ملاتی ہے۔ اب جگہ جگہ گہرے گڑھوں سے بھری پڑی ہے۔ اس سڑک پر سفر کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے ترقیاتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ اربوں روپے کے منصوبے کے لیے بجٹ میں رقم مختص نہ کرنا مکینوں کے ساتھ ایک بڑا دھوکہ ہے۔ منتخب نمائندوں کی عدم دلچسپی اور حکومت کی بے حسی نے عوام کو سخت مایوس کر دیا ہے۔ لاکھوں افراد کو روزانہ کی بنیاد پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو حکومت کی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے ۔
مصری موڑ تا للِہ روڈ پر گہرے گڑھوں کی موجودگی نے حادثات میں اضافہ کر دیا ہے۔ گاڑی مالکان کو لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، اور مسافر اذیت میں مبتلا ہیں۔ اس سڑک پر سفر کرنا مریضوں اور عام لوگوں کے لیے بھی انتہائی مشکل بن چکا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف مقامی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ لوگوں کی جانیں بھی خطرے میں ہیں۔
علاقہ مکینوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سڑک کی تعمیر کے لیے فوری فنڈز جاری کیے جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح بنائے اور ان کے مسائل کا فوری حل نکالے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور عوام کی مشکلات کا ازالہ کرے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو عوام کا اعتماد حکومت سے اٹھ جائے گا، اور یہ ترقیاتی منصوبے محض کاغذی دعوے بن کر رہ جائیں گے۔
عوام کو امید ہے کہ حکومت ان کی آواز سنے گی اور ان کے مسائل کو حل کرے گی، تاکہ وہ ایک بہتر اور محفوظ مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔
تحریر: احمد سعید (پنڈی سید پور، جہلم)


