کھیلوں کا مقبول ترین میگا ایونٹ سجنے کو تیار، پاکستان نے بھی اپنے دستے کو حتمی شکل دے دی۔ اولمپک کھیلوں کو دنیا کا اہم ترین مقابلہ تصور کیا جاتا ہے۔ اولمپک کھیلوں میں موسم سرما اور موسم گرما کے مقابلے ہر چار سال بعد منعقد ہوتے ہیں، یعنی دو اولمپک مقابلوں کے درمیان دو سال کا وقفہ ہوتا ہے۔ان مقابلوں میں دنیا بھر سے ہزاروں کھلاڑی شرکت کرتے ہیں۔
26جولائی سے فرانس کے شہر پیرس میں شروع ہونے والی اولمپک گیمز کیلئے پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن نے 18 رکنی دستے کا اعلان کر دیا ہے جس میں 7 اتھلیٹس اور 11 آفیشلز شامل ہیں۔پیرس اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں جہاں آرا نبی اور ارشد ندیم قومی پرچم کو تھامیں گے جبکہ پاکستان کے ا تھلیٹس، شوٹنگ، سوئمنگ اور اتھلیٹکس میں ایکشن میں ہوں گے۔ محمد شفیق چیف ڈی مشن، جاوید لودھی ڈپٹی چیف ڈی مشن اور زینب شوکت ایڈمن آفیشل ہوں گی۔
اتھلیٹکس میں ارشد ندیم اور فائقہ ریاض کے ساتھ کوچ سلمان اقبال بٹ اور ڈاکٹر علی باجوہ بھی ہوں گے۔ شوٹنگ میں غلام مصطفیٰ بشیر، کشمالہ طلعت اور گلفام جوزف کے ساتھ دو کوچز ہوں گے، سوئمنگ میں احمد درانی اور جہاں آرا کے ساتھ احمد علی ٹیم آفیشل ہوں گے۔میثاق رضوی چیف میڈیکل اور رضوان احمد ویلفیئر آفیسر ہوں گے جبکہ فرانس میں پاکستانی سفارت خانے کے کاشف جمیل اولمپک اتاشی ہوں گے اور پاکستانی دستہ گروپس میں پیرس کیلئے روانہ ہو گا۔
پیرس اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی ارشد ندیم، کشمالہ طلعت، گلفام جوزف، غلام مصطفی بشیر، جہاں آرا نبی، محمد احمد درانی اور فائقہ ریاض کریں گے۔ان میں سے ارشد ندیم، کشمالہ طلعت، گلفام جوزف اور غلام مصطفی بشیر کو اولمپکس میں براہِ راست انٹری مل گئی تھی جبکہ جہاں آرا نبی، فائقہ ریاض اور محمد احمد درانی وائلڈ کارڈ انٹری پر اولمپکس میں شرکت کر رہے ہیں۔آئیے جانتے ہیں پیرس اولمپکس میں شرکت کرنے والے پاکستانی اتھلیٹس کے بارے میں ۔
ارشد ندیم (جیولن تھرو)
ارشد ندیم واپڈا سے منسلک ہیں اور ان کا تعلق میاں چنوں سے ہے ۔7ر کنی دستے میں میڈل حاصل کرنے کی سب سے زیادہ امید ان ہی سے لگائی جا رہی ہے۔دستے میں شامل ارشد ندیم واحد کھلاڑی ہیں جو بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں۔ 2022ء میں کامن ویلتھ گیمز میں سونے اور اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد ان سے لگائی گئی امیدوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
ارشد ندیم 2017ء میں اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔گزشتہ ماہ ارشد ندیم کو فن لینڈ میں ’’پاوو نورمی گیمز‘‘ میں حصہ لینا تھا تاہم وہ پنڈلی میں انجری کے سبب ان مقابلوں میں حصہ نہیں لے سکے تھے لیکن وہ پرامید ہیں کہ پیرس اولمپکس میں اچھی کارکردگی دکھا پائیں گے۔وہ ماضی میں 90 میٹر سے زائد فاصلے پر بھی جیولن پھینک چکے ہیں۔
کشمالہ طلعت (نشانہ باز)
پاکستان کی مایہ ناز نشانہ باز کشمالہ طلعت نے رواں برس انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں منعقد ہونے والی ایشین شوٹنگ چیمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا اور اسی کامیابی کے سبب وہ پیرس اولمپکس کیلئے کوالیفائی کر گئیں۔پیرس اولمپکس میں کشمالہ طلعت نشانہ بازی کے 10 میٹر اور 25 میٹر کے مقابلوں میں حصہ لیںگی۔خواتین کی نشانہ بازی کی 10 میٹر کی عالمی رینکنگ میں کشمالہ طلعت 37 ویں اور 25 میٹر کی عالمی رینکنگ میں 41ویں نمبر پر ہیں۔
کشمالہ طلعت جہلم میں فوجی افسران اور ایک غیر ملکی کوچ کے زیر تربیت رہی ہیں۔
فائقہ ریاض (سپرنٹر)
فائقہ ریاض نے گزشتہ برس نیشنل چیمپئن شپ میں 100 میٹر کی ریس جیتی تھی اور پاکستان کی تیز ترین خاتون کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔فائقہ ریاض کا حافظ آباد سے ہے اور وہ اکاؤنٹنگ اور فنانس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں۔فائقہ ریاض ماضی میں ہاکی بھی کھیلتی رہی ہیں ۔
غلام مصطفیٰ بشیر(نشانہ باز)
غلام مصطفی ٹوکیو اور ریو اولمپکس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ٹوکیو اولمپکس میں وہ 25 میٹر فائر پسٹل ایونٹ کے دوسرے مرحلے میں خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے۔
جس کے باعث وہ فائنل تک رسائی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ ورلڈ چیمپئن شپ 2022ء کے دورن انہوں نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔
گلفام جوزف(نشانہ باز)
گلفام جوزف ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور انہوں نے نشانہ بازی کے مقابلوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔تاہم پہلے راؤنڈ میں ٹاپ 8 کھلاڑیوں میں جگہ بنانے میں ناکام رہے تھے، اور اگلے مرحلے تک کوالیفائی نہیں کر سکے تھے۔
گلفام جوزف رواں برس انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں ہونے والی ایشین چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
وہ 2022ء میں قاہرہ میں ہونے والی عالمی شوٹنگ چیمپئن شپ میں چھٹی پوزیشن پر رہے تھے اور پیرس اولمپکس کیلئے براہ راست کوالیفائی کر گئے تھے۔
پاکستان نے آخری مرتبہ اولمپکس میں کوئی بھی تمغہ بارسلونا میں 1992 میں جیتا تھا۔ اُس برس ہاکی ٹیم تیسرے نمبر پر رہی تھی اور کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ انفرادی مقابلوں میں آخری مرتبہ پاکستان نے کوئی بھی تمغہ 1988ء میں جیتا تھا اور یہ میڈل جیتنے والے باکسر حسین شاہ تھے۔
2021ء میں ٹوکیو اولمپکس میں 9 پاکستانی اتھلیٹس نے حصہ لیا تھا تاہم کوئی پاکستانی کھلاڑی میڈل نہیں جیت سکا تھا۔اب دیکھتے ہیں کہ پیرس اولمپکس میں پاکستانی اتھلیٹس کی کارکردگی کیس رہتی ہے۔


