جہلم شہر اور گردو نواح میں مہنگائی بے قابو، شہری دکانداروں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہیں۔
دکاندار سبزیاں، پھل اشیاء خوردونوش من مانی قیمتوں پر فروخت کرنے میں مصروف ہیں، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کارروائیاں کرنے سے گریزاں ہیں، مہنگائی کی بے رحم لہروں نے غریب سفید پوشوں طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے۔
اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کی سرکاری لسٹ اور عام مارکیٹ کے دکانداروں کے نرخوں میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ دودھ کا سرکاری نرخ جو مقرر ہے اس سے کئی گنا اضافی وصول کیا جارہا ہے۔
روٹی 14 روپے کی بجائے 20 روپے میں فروخت ہورہی ہے۔ نان 20 روپے کی بجائے 25 روپے وہ بھی کم وزن میں فروخت ہو رہا ہے، چاول 250 کی بجائے 300 روپے، دال چنا 215 کی بجائے 320 روپے میں فروخت ہورہی ہے۔
دال مسور موٹی روپے کی بجائے 370 روپے میں، دال ماش دھلی 520 کی بجائے 620 روپے، دال مونگ کوری 260 کی بجائے 300 روپے میں فروخت ہونے لگی۔ کالا چنا موٹا 220 کی بجائے 280 روپے، سفید چنا 280 کی بجائے 350 روپے بین 225 کی بجائے 300 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
گھی اور چینی کی قیمتوں بھی سرکاری ریٹ سے زیادہ ریٹ میں فروخت جاری ہیں، اسی طرح دکاندار سبزیوں اور پھلوں کو بھی سرکاری نرخوں کی بجائے من مرضی کی قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں۔


