جہلم: پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس کو ٹیپ، کپڑے یا کسی بھی دوسرے طریقے سے چھپانے، تبدیل کرنے یا ان میں ردوبدل کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کر دی ہیں۔
ترجمان سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق جہلم سمیت پنجاب بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید سرویلنس سسٹم کے ذریعے ایسی گاڑیوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جس کے باعث نمبر پلیٹ چھپانے یا تبدیل کرنے والوں کے لیے قانون کی گرفت سے بچنا مشکل ہو گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق جدید اے آئی بیسڈ کیمرے مشکوک، جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کی فوری شناخت کرکے خودکار الرٹ جاری کرتے ہیں۔ الرٹ موصول ہوتے ہی مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ معلومات قریبی فیلڈ فورس کو فراہم کر دی جاتی ہیں۔
سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق جولائی کے دوران سیف سٹی کیمروں کی مدد سے 100 سے زائد جعلی، کلون اور مشکوک گاڑیاں پکڑوائی گئیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ جعلی یا ٹیمپرڈ نمبر پلیٹ استعمال کرنے پر چالان کے علاوہ دفعہ 420، 468، 471 اور 171 کے تحت مقدمہ بھی درج ہو سکتا ہے۔ اصل نمبر پلیٹ کو چھپانا یا اس کے نمبروں میں ردوبدل کرنا قانوناً جرم ہے۔
ترجمان سیف سٹیز اتھارٹی نے کہا کہ جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر ہمیشہ اصل، درست اور سرٹیفائیڈ نمبر پلیٹ استعمال کریں تاکہ انہیں قانونی کارروائی یا دیگر مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی شہری کی نمبر پلیٹ کسی دوسری گاڑی پر غیر قانونی طور پر استعمال ہونے کا علم ہو تو وہ فوری طور پر پولیس ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دیں۔


