جہلم: ضلع جہلم میں ہونے والی موسلادھار بارش نے گرمی اور حبس کا زور توڑ دیا، تاہم شدید بارش کے باعث شہر اور گردونواح کے متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ بجلی کا ترسیلی نظام متاثر ہونے سے کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی بند رہی جبکہ سڑکوں، گلیوں اور رہائشی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بارش کے باعث جہلم شہر کے مختلف رہائشی علاقوں، گلی محلوں اور مرکزی شاہراہوں پر پانی جمع ہو گیا، جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور اندرون شہر گاڑیوں کی آمدورفت سست روی کا شکار رہی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ واسا کی جانب سے کئی ماہ سے سیوریج لائنوں کی تنصیب کا کام جاری ہے، تاہم نکاسی آب کے نالوں کی بروقت صفائی نہ ہونے اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث بارش کا پانی سڑکوں اور گلیوں میں کھڑا ہو گیا۔
تحصیل پنڈدادنخان میں بھی موسلادھار بارش نے معمولات زندگی بری طرح متاثر کیے۔ وکٹوریہ برج جانے والا مرکزی رابطہ راستہ کئی فٹ پانی میں ڈوب گیا، جس سے ضلع جہلم، منڈی بہاؤالدین اور سرگودھا کے درمیان آمدورفت متاثر ہوئی اور مسافروں، ٹرانسپورٹرز اور مقامی شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
بارش کے دوران واڑہ پھپھراہ میں ایک مکان کی چھت گرنے سے متعدد جانور ہلاک ہو گئے، جبکہ مختلف علاقوں میں گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
دوسری جانب جہلم کے علاقے گجر پور میں شدید بارش کے باعث پانی ایک رہائشی گھر میں داخل ہو گیا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد گھر میں محصور ہو گئے۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام افراد کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ بروقت کارروائی کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
شدید بارش کے باعث پنڈدادنخان لائسنس برانچ میں بھی پانی داخل ہو گیا، جس کے باعث ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق تمام خدمات عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔
ادھر منگلا روڈ دینہ پر ناقص نکاسی آب ایک مرتبہ پھر نمایاں ہو گئی۔ بارش کا پانی سڑک اور متعدد دکانوں میں داخل ہونے سے تاجروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ افراد نے اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ نکاسی آب کے مؤثر انتظامات کیے جائیں تاکہ آئندہ بارشوں میں اس صورتحال سے بچا جا سکے۔
بارشوں کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوگن کی ہدایات پر ریسکیو 1122 نے ضلع بھر میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی سیکٹرز قائم کر دیے ہیں۔ ان سیکٹرز میں جہلم سٹی، ڈومیلی، بڑا گواہ، گوڑا چودھریاں، نوگراں، خورد، جلال پور شریف، وگھ، کھیوڑہ، للِہ اور کندوال شامل ہیں، جہاں ریسکیو اہلکار ضروری مشینری اور آلات کے ساتھ ہمہ وقت الرٹ ہیں۔
اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر سعید احمد نے ریسکیو اہلکاروں کو ہدایت کی کہ مون سون بارشوں کے دوران کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل پیشہ ورانہ تیاری برقرار رکھی جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے بروقت اور مؤثر امدادی کارروائیاں یقینی بنائی جائیں۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نکاسی آب کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے، برساتی پانی کی بروقت نکاسی کو یقینی بنایا جائے اور متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو مزید مشکلات اور ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔


