امریکا نے پاکستان سمیت دنیا کے 75 ممالک کے شہریوں کی امیگرنٹ ویزا کی کارروائی 21 جنوری سے معطل کر دی ہے۔ اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پابندی سے متاثر ہونے والے ممالک میں براعظم ایشیا، افریقہ اور یورپ کے مختلف ممالک شامل ہیں۔
یہاں پر دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے ’امیگریشن ویزا پروسیس‘ پر پابندی کا جب فیصلہ لیا تو اس کے چند گھنٹے پہلے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک، وزیرِ اعظم شہباز شریف، ڈپٹی وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور دیگر وزرا کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک معاہدہ سائن کر رہے تھے۔ یہ معاہدہ زیک ویٹکوف کی کرپٹو کمپنی کے ساتھ کیا گیا، جس میں صدر ٹرمپ کے بیٹوں کے چالیس فیصد شیئرز ہیں۔
معاہدے کے مطابق ورلڈ لبرٹی فنانشل نامی کرپٹو کمپنی کے ساتھ اسٹیبل کوائن کے ذریعے سرحد پار ادائیگیاں شروع کرنے کا جائزہ لیا جائے گا، جو شاید 30 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہوں۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل نامی کرپٹو کمپنی کا مالک زیک ویٹکوف ہے۔ اس کمپنی میں 40 فیصد شیئرز صدر ٹرمپ کے بیٹوں کے اور باقی شیئرز زیک ویٹکوف کے ہیں۔ زیک ویٹکوف کے والد اسٹیو ویٹکوف اس وقت صدر ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل نامی کرپٹو کمپنی کے ساتھ معاہدے کے چند گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ملک پر ویزا پروسیسنگ بین لگا دیا۔ یہاں پر اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا ہمسایہ ملک انڈیا، سری لنکا، فلپائن، ویت نام، ملائشیا، ترکی اور سب سے بڑی آبادی والا ملک انڈونیشیا بھی اس لسٹ میں شامل نہیں ہے۔ تو پھر پاکستان پر پابندی کیوں لگائی گئی؟
امریکا کے اس غیر جانبدارانہ اقدام کے بعد پاکستان نے جمعرات کے روز کہا کہ وہ امریکی حکام سے رابطے میں ہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے وزارت کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ “امریکا اپنی ویزا پالیسیوں کا جائزہ لے رہا ہے، اور ہمیں امید ہے کہ وہ جلد ہی پاکستان کے لیے ویزا سروسز بحال کر دے گا۔”
جمعہ کے روز پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے نے ایک بیان جاری کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی عوام کے تحفظ پر توجہ دی جا رہی ہے، اسی لیے ویزا درخواست گزاروں کی چھان بین اور جانچ پڑتال کے اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ یہ معطلی اس وقت تک لاگو رہے گی جب تک یہ امر یقینی نہ بنا لیا جائے کہ امریکی امیگریشن کے نئے درخواست گزار چھان بین کے مکمل عمل سے گزر چکے ہوں، بشمول یہ کہ وہ امریکی سرکاری معاونت پر انحصار نہیں کریں گے۔
یہ اقدام صرف امیگرنٹ ویزا کے اجرا پر لاگو ہوتا ہے۔ اس کا اطلاق نان امیگرنٹ ویزا کی درخواستوں پر نہیں ہوگا۔ سیاحوں، طالب علموں، کھلاڑیوں، ہنر مند کارکنان اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے ویزا پر اس پالیسی کا اطلاق نہیں ہو گا۔
امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری کیے گئے اس بیان کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکا میں مستقل ویزا حاصل کرنے کی معطلی عارضی نہیں ہے، کیونکہ پاکستان کو ان ممالک میں شامل کر دیا گیا ہے جنہیں امریکا بوجھ سمجھتا ہے—یعنی وہ ممالک جن کے شہری امریکا جا کر پیسے نہیں کما پاتے بلکہ امریکی سرکاری معاونت پر انحصار کرتے ہیں اور امریکی حکومت پر بوجھ بنتے ہیں۔
چند دن پہلے ٹرمپ انتظامیہ نے ایسے ہی ممالک کی ایک فہرست جاری کی تھی، جس میں پاکستان تیسری اور انڈیا چوتھی فہرست میں شامل تھا، جو اتنا خطرناک نمبر نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن ٹرمپ ایک غیر متوقع انسان ہیں، وہ کبھی بھی، کہیں بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ شاید یہ فہرست اس لیے تو جاری نہیں کی گئی کہ امریکا ایران میں رجیم چینج کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ:
“ڈِگے کھوتے توں غصہ کمہار تے”


